Posts

چلو اذربئیجان ۔۔۔۔5

   چلو اذربائیجان۔۔۔۔5         یچَری شہر:  باکو شہر کے قدیم حصے کو ایچری شہر کہتےس ہیں یعنی اندرونی شہر۔ اس میں مکان یا ہوٹل مہنگے ہیں کیونکہ آثار قدیمہ سے شعف رکھنے والے سیاحوں کی دلچسپی کا تقریباً سارا سامان اس شہر کے اندر موجود ہے۔ اس شہر کے اندر بارھویں صدی سے لے کر پندرھویں صدی کی تعمیرات محفوظ ہیں جن میں شیروان شاہوں کا محل، مسجد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میڈن ٹاور زیادہ مشہور ہیں۔ محققین کے مطابق یہ شہر بارھویں صدی میں بسایا گیا تھا جب کہ بعض مورخین کا خیال ہے کہ یہاں تعمیرات کا آغاز چھٹی اور ساتویں صدی سے ہوا تھا۔  پرانا شہر کا بیشتر حصہ اب بھی اپنی اصلی حالت میں ہے۔ وہی عمارتیں، تنگ اور بھول بھلیوں والی گلیاں، نیچے  ترشے ہوئے ایک ہی سائز کے کالے پھتروں کا منقش فرش، ہر چیز اپنی قدامت کی گواہی دیتی ہے اور اپنے کاریگروں کی یاد تازہ کرتی ہے۔ تین اطراف  شہر پناہ کی اونچی دیوار ، اپنی حفاظتی برجیوں اور دروازوں کے ساتھ استادہ ہے اور دور سے دعوت نظارہ دیتی ہے۔ سمندر کی طرف شہر کی دیوار گرائی گئی ہے اور ایک کشادہ شاہراہ بنائی گئی ...

نقوش حیات

Image
نقوش حیات (آپ بیتی) محترم سید مشتاق حسین شاہ بخاری پرنسپل(ریٹائرڈ) کی طرف سے تخفے میں ملی ان کی آپ بیتی کا مطالعہ کرکے بہت محظوظ ہوا۔ محض لطف ہی نہیں اٹھایا بلکہ میرے علم میں بھی بہت بڑا اضافہ ہوا۔ شاہ صاحب کا بے لاگ اظہار خیال اور شگفتہ انداز بیان نے اس وقت تک مجھے کتاب سے نظر ہٹانے نہیں دیا جب تک کہ کتاب پوری نہیں پڑھی۔ کتاب پر اپنی واجبی اردو میں رائے دینے سے پہلے شاہ موصوف کا مختصر تعارف ہو جائے۔ سید مشتاق حسین بخاری حسینی سادات کی بخاری شاخ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے جد اعلیٰ پیر سید محمود المعروف پیر سباک رح وہاں سے ہجرت کرکے نوشہرہ میں سکونت اختیار کی تھی۔ پیر سباک کا گاؤں انہوں نے آباد کیا تھا اور گاؤں کا نام  ان کے نام سے منسوب ہوا۔ سکھوں کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں ان کی اولاد کو پیر سباک سے بھی ہجرت کرنا پڑی۔ جس کے نتیجے میں مشتاق حسین کے دادا کا دادا اٹک کے لنگر نامی گاؤں میں بس گئے اور خاندان کے بعض دوسرے افراد  تحصیل فتح جنگ کے موقع گکھڑ، سرائے نو رنگ، لکی مروت کے تاجہ زئی، اور خواجہ خیل، میاں والی کےتبی سر اور کوہاٹ کے موضع شویکی کی طرف حجرت کر گئے ۔ مشتاق صاحب کا ن...

چلو اذربئیجان چلیں

ماہ اکتوبر کے شروع میں ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر نے بونی، اپر چترال  میں اپنی کلینک کے اختتام پر  اذربائیجان جانے کا پروگرام بنایا  تو مجھے بے حد خوشی ہوئی کیونکہ آذربائجان اور مصر دیکھنے کا شوق بہت پہلے سے پال رکھا تھا۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران کورونا کی وبا نے ہمارے پیروں میں خوف جان کی زنجیر ڈال رکھی تھی اس لیے ہم نے باہر جانے کا خیال دل سے نکال رکھا تھا۔  25اکتوبر 2022 کی صبح سویرے بونی اپر چترال سے اپنی جہاں دیدہ گاڑی میں شریک حیات اور تین بچیوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ جاوید مستری کے ساتھ دو تین مہینے پہلے پروگرام بنا رکھا تھا کہ میری  گاڑی مرمت کے لیے پشاور پہنچا دے۔ چونکہ گاڑی بہت بوڑھی ہو چکی تھی اس لیے مستری کا ساتھ ہونا بہت ضروری تھا۔ چترال میں ال بوستان رستوران میں اچھا سا ناشتہ کیا۔ منظم لڑکوں نے ہماری اچھی خاصی خاطر تواضع کی۔ دوپہر کا کھانا تیمرگرہ میں اپنے بہت ہی پیارے دوست اور عزیز ڈی ایس پی شافی شفا کے ساتھ طے تھا۔ سفر کا آغاز خوشگوار ہو تو سفر کا انجام بھی خوشگوار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سن رسیدہ لوگ اپنی قدیم روایت کے مطابق گھر سے نکلتے وقت اپنے گھر کے...

اردو کے صاحب دیوان فرنگی شعراء

اردو کے صاحب دیوان فرنگی شعراء ہمیں اپنے سابقہ فرنگی آقاؤں سے یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں نے ہمیں اپنا غلام بنایا اور ہماری تہذیب کا جنازہ نکال دیا۔ اپنی زبان اور کلچر ہم پر مسلط کیا۔ بر صغیر پاک و ہند سے جاتے جاتے  بھی اپنے پیچھے ایسے مقامی وارث چھوڑ گئے جو آج تک مغرب کی غلامی پر نازاں ہیں۔ آج بھی ان کی نقل اتارتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور ملک کے اندر ان کا نظام تعلیم و تربیت اور حکمرانی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کی درجنوں خرابیوں کے باوجود ان کی چند ایک خوبیاں بھی تھیں۔ جن میں معاشی،علمی اور اقتصادی ترقی میں ان کا کردار قابل قدر ہے۔ اردو اور ہندی زبان و ادب کے فروع میں انہوں بہت بڑا کام کیا ہے۔ زبان و ادب اور ادیبوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں انہوں نے پیش رو کا کردار ادا کیا ہے۔ میں آج تک اس بات سے واقف نہیں تھا کہ فرنگیوں میں بھی کوئی اردو زبان کا شاعر گزرا ہے۔ خدا بھلا کرے رضا عابدی صاحب کا  کہ ان کی تصنیف " کتابیں اپنے آباء کی " اور محترم شیر علی برچہ ہنزائی کا کہ انہوں نے اس نایاب کتاب کو مجھے تحفہ کیا تھا۔ معروف صحافی، محقق اور ادیب رضا علی عابدی کے مطابق سو...

کھو ثقافت میں رشتے بنانے کا رواج

خونی اور رضاعت کے رشتوں کے علاوہ کھو ثقافت میں اور طرح کے رشتے بنانے کا ایک عام رواج تھا۔ ان میں ایک"ݰوشپ لاسیک" تھا۔ دو بندے یا گھرانے آپس میں رشتہ قائم کرنا چاہتے تو ایک آدمی دوسرے کو اپنا منہ بولا بیٹا بنانے کے لیے ایک رسم ادا کیا کرتا تھا۔ اس رسم کی ادائیگی کے لیے ایک چھوٹی سی تقریب میں باپ بننے والا بیٹا بننے والے کو ݰوشپ (چترال کی ایک مشہور روایتی خوراک) کا نوالہ اپنے ہاتھ سے کھلاتا تھا۔ اس کے بعد وہ ݰوشپ کا نوالا کھانے والا کھلانے والے کا ݯھیر ژاو  یعنی رضاعی بیٹے کا درجہ حاصل کرتا اور ان  تمام پسری فرائض کا پابند ہوتا تھا جو ایک سگا یا رضاعی بیٹا اپنے ماں باپ کے حقوق کے بارے میں پابند ہوتا ہے۔ اسی طرح سوائے وراثت میں حصہ کے اسے سگے بیٹے کے حقوق بھی حاصل ہوتے تھے جس میں تہواروں کے موقعوں پر "بݰ" (اس تہوار کی خاص خوراک میں حصہ بطور تحفہ) بھیجنا شامل تھا۔ یوں ان دو افراد کے علاوہ دو گھرانوں میں محرمانہ رشتہ قائم ہو جایا کرتا تھا اور دونوں گھرانوں بلکہ خاندانوں کے افراد اس رشتے کا احترام کرتے تھے۔آج کل یہ رسم متروک ہو چکی ہے۔ اسی طرح خدا ناخواستہ کبھی کسی مرد کو...

یارخون میں موبائل لائبریری

یارخون میں موبائل لائبریری آج کل لائبریری کا نام طاق نسیاں کے حوالے ہوا جا رہا یے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب ہمیں کالج لائبریری میں اپنی ضرورت اور پسند کی کتابوں کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا جب دوسرے ساتھی واپس کریں گے تو ہم اپنے نام ایشو کروائیں گے۔ آج یہ حال ہے کہ کوئی بھولا بھٹکا کتاب خوان لائبریری کا رخ کرتا ہے۔ لائبریرین کتب بینوں کے انتظار میں بیٹھے بیزار ہو رہے ہیں۔ دنیا کے دانشور اس منفی رجحان کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں کہ ان کی اولاد کا مستقبل علم و دانش سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ موبائل فون اور انٹر نٹ کی سہولت سے بآسانی دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں تک رسائی ممکن ہوگئی ہے تاہم یہ جدید سہولیات کسی طور بھی ہاتھ میں پکڑی کتاب کا متبادل نہیں ہو سکتیں نیز یہ الیکٹرانک ڈیوائسز انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت اور اخلاقیات پر بھی برے اثرات ڈال رہے ہیں۔ یہ غریب والدین پر زائد مالی بوجھ بھی ڈال رہے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ تک رسائی مفت میں ممکن  نہیں ہے۔  یہ بات ہمارے لیے خوش آ ئند ہے کہ وادی یارخون کے چند نوجوان طلبہ جو پاکستان کے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں، نے وقت کے اس ...

کھو سماج، رشتے اور موسیقی

چترال کی ثقافت کو کھو ثقافت کہا جاتا ہے۔ زبان اس کی کھوار ہے یعنی کھو لوگوں کی بولی/ زبان۔ لفظ کھو کا ماخذ آج تک پوری وضاحت کا محتاج ہے۔ میں  نے اپنے ایک مقالے میں جس کی تصنیف میرے ایک لائق شاگرد علی شیر نے میرا ساتھ مل کر کی تھی، لفظ "کھو" کی وجہ تسمیہ غاروں میں بسنے والے بتایا تھا۔ یہ مقالہ غالباََ 2009 میں اسلام میں منعقدہ ایک سیمینار میں پیش کیا گیا تھا۔ ہماری تحقیق کے مطابق لفظ"کھو" سنسکرت ہے جس کے معنی غار کے ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ زمانہ قدیم کے چترالی غاروں میں رہتے تھے کیونکہ وہ خانہ بدوش تھے۔ اسی نسبت سے اس علاقے کے باشندوں کو کھو کہا جانے لگا۔ چترال کی سرزمین پر مستقل رہائش رکھنے کے بعد بھی  چترال کے لوگ بیرونی حملہ آوروں اور ڈکیتیوں سے بچنے کے لیے پہاڑوں کے اندر تنگ گھاٹیوں اور غاروں میں پناہ گزین ہوتے تھے۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہ نام اہل چترال کی قدیم جائے رہائش یا جائے پناہ سے تعلق رکھتا ہے۔ چترال کی بیشتر آبادی نے شمال اور شمال مشرق سے اس وادی میں آکر رہائش اختیار کی تھی۔ ان علاقوں میں کھو نام نہیں ملتا ہے۔ کھو ثقافت کی چند خصوصیات ایسی ہیں جو...