Posts

کھو سماج، رشتے اور موسیقی

چترال کی ثقافت کو کھو ثقافت کہا جاتا ہے۔ زبان اس کی کھوار ہے یعنی کھو لوگوں کی بولی/ زبان۔ لفظ کھو کا ماخذ آج تک پوری وضاحت کا محتاج ہے۔ میں  نے اپنے ایک مقالے میں جس کی تصنیف میرے ایک لائق شاگرد علی شیر نے میرا ساتھ مل کر کی تھی، لفظ "کھو" کی وجہ تسمیہ غاروں میں بسنے والے بتایا تھا۔ یہ مقالہ غالباََ 2009 میں اسلام میں منعقدہ ایک سیمینار میں پیش کیا گیا تھا۔ ہماری تحقیق کے مطابق لفظ"کھو" سنسکرت ہے جس کے معنی غار کے ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ زمانہ قدیم کے چترالی غاروں میں رہتے تھے کیونکہ وہ خانہ بدوش تھے۔ اسی نسبت سے اس علاقے کے باشندوں کو کھو کہا جانے لگا۔ چترال کی سرزمین پر مستقل رہائش رکھنے کے بعد بھی  چترال کے لوگ بیرونی حملہ آوروں اور ڈکیتیوں سے بچنے کے لیے پہاڑوں کے اندر تنگ گھاٹیوں اور غاروں میں پناہ گزین ہوتے تھے۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہ نام اہل چترال کی قدیم جائے رہائش یا جائے پناہ سے تعلق رکھتا ہے۔ چترال کی بیشتر آبادی نے شمال اور شمال مشرق سے اس وادی میں آکر رہائش اختیار کی تھی۔ ان علاقوں میں کھو نام نہیں ملتا ہے۔ کھو ثقافت کی چند خصوصیات ایسی ہیں جو

طلبہ کے ساتھ بھونڈا مذاق

طلبہ کے ساتھ بھونڈا مذاق ؟ جب بانگ یارخون میں ہائیر سیکنڈری اسکول قائم ہوا تو عوام خوش تھے کہ ان کے بچوں کو انٹر تک مفت تعلیم حاصل ہوگی۔ علاقے کی پسماندگی اور دور افتادگی یہاں کے بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ رہی تھی۔ ان کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے راقم نے 2009 میں یہاں انٹر میڈیٹ کالج قائم کیا تھا۔ بعد میں اسے ڈگری کالج کا درجہ دیا گیا تھا۔ بہت ہی معمولی فیس بچوں سے لی جاتی تھی وہ بھی ان کے والدین ادا کرنے سے قاصر تھے۔  گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بانگ کو جب ترقی دی گئی تو ہمیں لگا کہ عوام کا بڑا مسلہ حل ہوگیا۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ سال روان کے دوران مجھے دو مرتبہ اسکول کی تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ پچھلی دفعہ یوم والدین کی تقریب تھی۔ اس کی روداد میں نے لکھی تھی۔ اس وقت تدریسی عملے کی کل منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 13 آسامیاں پر تھیں۔ 17 آسامیاں خالی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ تعلیمی سال کے شروع ہونے کے ساتھ خالی آسامیاں پر کی جائیں گی۔ آج پتہ چلا کہ مزید دو پوسٹیں اور خالی کر دی گئی ہیں۔ ایک مقامی سبجیکٹ اسپیشلسٹ نے یہاں سے اپنا تبادلہ کرایا ہے جب

آہ بیٹا سمیع!

آہ بیٹا سمیع!  مانا کہ جانا ہے ہم سب کو ایک دن  منہ دکھانا ہے اپنے رب کو ایک دن  اتنی جلدی جانے کی ٹھانی کیوں؟  تنہائی میں فراق شب کو ایک دن  پیاروں کے سروں پر کوہ غم ٹوٹا   دوڑا جب آبی کرتب کو ایک دن   شوق پیراکی تھا یا دماغ کا جنون!  رکھا خاطر پھر بھی ادب کو ایک دن  چاندنی رات، سیر دریا کا شوق  لے ڈوبا ہے حسن عرب کو ایک دن  باد خزاں کا کوئی بھروسا نہیں ہے  مسل کر رکھ دے گل عجب کو ایک دن  تیری موت کا معمہ دل کو کھا رہا ہے  شاید منظور تھا مرے رب کو ایک دن      میرا پیارا سا معصوم ، درویش صفت ، تابعدار بھتیجا سمیع اللہ خان ابن رحمت ولی خان 14 جولائی سال رواں کو ہمیں داغ مفارقت دے گیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔  بہ ظاہر اس کی موت خود کشی سے واقع ہوئی لیکن حالات واقعات بتا رہے ہیں کہ اس نے اپنی جان قصداً نہیں لی بلکہ حادثہ کی وجہ سے وہ اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی ۔ وہ عرصہ تین سالوں سے نفسیاتی بیماری کا شکار رہا تھا تاہم ایک اعلے معالج اس کا علاج کر رہا تھا اور وہ 99 فیصد صحت مند ایک نارمل انسان کی سی زندگی گزار رہا تھا۔ اس میں کسی قسم کی ذہنی پریشانی نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ اپنے وال

سحر خیزی

صبح سویرے اٹھنا ایک فرد کی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔ اسلام نے صبح کی عبادت کی جو اہمیت بیان کی ہے اسے اخروی فائدے کی تلقین قرار دیا جا سکتا ہے جس کی ہم مسلمانوں کو اتنی فکر نہیں کیونکہ ہمارا دعویٰ زبانی عملی نہیں ہے۔ ہم میں بہت کم لوگ اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں۔ آخرت پر ہم سب کا یقین ہوتا یعنی اقرار بالسان اور تصدیق بالقلب کا عملی مظاہرہ کرتے تو ہم کبائر گناہوں سے اجتناب کرتے۔ جھوٹ، غیبت، بہتان طرازی چوری، زنا ، لواطت ، سود خوری، رشوت، قتل ، ذخیرہ اندوزی ، دوسروں کا حق مارنا وغیرہ جیسے گناہوں سے بچتے کیونکہ قیامت کے دن ان کے بارے سوال جواب ہوگا اور سزائیں ہوں گی۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔جب ہم گناہوں کو شیر مادر سمجھ کر کرتے ہیں تو ہمارے ہاں عبادتوں کی کیا اہمیت  ہوسکتی ہے؟ اس لیے ہم سحر خیزی کی دنیاوی فوائد دیکھیں گے شاید مادی کشش ہمیں عبادت کی طرف بھی مائل کر سکے ۔ دنیا کے بڑے بڑے لوگ جنہوں نے کسی نہ کسی شعبے میں کمال حاصل کیا ہو صبح سویرے اٹھنے کی عادت رکھتے تھے۔ سورج سے پہلے بیدار ہونا اور اپنے مخصوص کاروبار زندگی کا آغاز کرنا کامیاب دن اور زندگی گزارنے کی طرف پہلا اور اہم ترین ق

آہ جان بیٹا

آہ جان بیٹا! ہاں اے فلک پیر جوان تھا ابھی عارف!  کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور (غالب) تم تو اپنی منزل حقیقی کی طرف کوچ کر گئے اور دائمی زندگی کا آغاز کر دیا۔ تمہاری شرافت، محبت، انکساری، شائستگی اور رحمدلی اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ تم روحانی خوشی پا گئے ہو مگر یہاں اس کالی مٹی کے باسی، اس ظالم دنیا کے قیدی، تیرے پیار کی مورتیاں جیسے ماں باپ، تیری پیار و محبت والی  رفیقہ حیات، تیرے جگر گوشے ، تیرے ہم شیر بہن بھائی ، عزیز و اقارب، دوست احباب کے لیے دنیا اندھیروں میں ڈوب گئی ہے۔ ان کا درد و غم الفاظ کی گرفت میں نہیں آ سکتا۔ کوئی بھی تسلی ان کا اندوہناک غم کم نہیں کر سکتی سوائے اللہ پاک کی مدد کے جس نے یہ آزمائش تیرے پیاروں پر ڈالی ہے۔  اہل چترال تجھے کھو کر بہت حوصلہ شکن اور دکھی ہیں کیونکہ تم چترال کے ذہین ترین اور قابل ترین بچوں میں سے ایک تھے۔ تم نے کم عمری میں دنیا کے سب سے زیادہ مؤقر ادارے کے اندر مقام پاکر ہمارا سر فخر سے اونچا کر دیا تھا۔ تمہارے ساتھ بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں کہ تم  اپنی صلاحیتوں اور اپنے بین الاقوامی اثر رسوخ کے ذریعے اس پسماندہ علاقے اور اپنے مادر وطن کی

جمہوریت یا بادشاہت؟

میری عمر 73 سال کی ہے۔ گویا پاکستان ڈیڑھ دو سال مجھ سے بڑا ہے۔ پاکستان کی پیدائش، بچپن اور لڑکپن جس خلفشار سے گزرے میری زندگی میں ایسے واقعات پیش نہیں ائے، الحمدللہ! والدین کی پر شفقت نگہداشت حاصل رہی۔ میں دنیا سے بے خبر تھا۔ 9 سال کی عمر کو پہنچتے میں نے مارشل لاء کا نام سنا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ پہلا مارشل لا تھا اور اس کا سبب ہماری سیاسی قیادت تھی کیونکہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ملک کی قیادت کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ یہاں تک غلام محمد جیسے شخص کو گورنر جنرل بنا دیا گیا جو جسمانی لحاظ سے معذور تھا۔ ایک غیر ملکی خاتون کے ہاتھوں پاکستان چل رہا تھا ۔ ایک بیوروکریٹ کو صدر بننے کا موقع دیا گیا۔ ملک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا تھا ۔ 1967 میں ذولفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی بنائی اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے خلاف میدان میں کود پڑا۔ عوام کو اکسایا۔ خاص طور پر کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو متحرک کیا۔ گھیراؤ جلاؤ اور فسادات شروع ہوئے۔ ایوب خان ملک جنرل یحیٰی خان کے سپرد کرکے سبکدوش ہوگئے۔ جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء لگا کر ڈیڑھ دو سال حکومت کی اور تاریخ میں پہلی دفعہ شفاف انتخابات کرائے

پھندک (phindik)

پھندک کھو ثقافت کے علمبرداروں میں راقم کا نام بھی شامل رہا ہے۔ گزشتہ ایک لمبے عرصے سے میں بالائی چترال کے دو مشہور تہواروں کے بارے میں لکھتا رہا ہوں اور ان کی احیاء کی ترغیب دلانے کی کوشش کرتا رہا ہوں لیکن اہل چترال نے ان تحریروں پر پسند کی حاضری لگانے  کے سوا عملی حرکت نہیں کی۔ جب تک میری انگلیوں میں لکھنے کی سکت باقی رہے گی اپنے ثقافت کے علمبرداروں کو یاد دلاتا رہوں گا کہ خدا را اپنے تہواروں کو پھر سے زندہ کریں۔ ہر سال جون کے مہینے وادی مستوج کے باسی پھندک منایا کرتے تھے۔ تورکھو میں غاریوغ کے نام سے یہ تہوار منایا جاتا تھا۔  1990 تک مستوج سے لے کر سو یارخون تک پھندک کا تہوار باقاعدگی سے منایا جاتا رہا تھا۔ 1983 تک راقم الحروف بذات خود اس تہوار کے منانے والوں میں شریک رہا ہے کیونکہ پولو کھیلنا میرا بھی پسندیدہ مشغلہ تھا اور پولو کا کھیل پھندک کے کھیل تماشوں میں سر فہرست تھا۔ آخری دفعہ 2013 یا 2014 میں اے کے آر ایس پی اور مقامی امدادی تنظیم پونار کے اشتراک سے یارخون میں یہ تہوار منایا گیا تھا۔میراگرام نمبر دو کے پولو گراؤنڈ میں تقریب منعقد ہوئی تھی جس میں سب ڈویژن مستوج کے اس وقت کے اے