Posts

ضلع ‏غیرز۔۔۔3

Image
لالک جان شہید پبلک سکول میں ہی ہماری ملاقات ہوندور کی ایک معزز شخصیت سے ہوئی۔ خلیفہ سلطان پناہ، چوینچ مستوج کے شہزادہ بہرام انسپکٹر (ر) کے بہنوئی نکلے۔ وہ گھر میں ہماری ضیافت کے ساتھ ساتھ ہمیں وادئ یسین کی اسمعیلی تاریخ اور اپنے خاندان کے شجرہ نسب سے اگاہ کرنا چاہتے تھے لیکن ڈاکٹر فیض امان صاحب نے انہیں یہاں بلایا تاکہ ہمارا وقت بچ جائے۔ ہمیں ان کے گھر جاکر ان کی اہلیہ سے ملنا ضروری تھا کیونکہ وہ میرے دوست اور کلاس فیلو شہزادہ بہرام  کی چچا زاد بہن ہیں۔  ان کے گھر نہ جانے کا مجھے افسوس رہا۔ آرمی اسکول اینڈ کالج کی لائبریری میں ہماری نشست ہوئی۔ سلطان پناہ کے مطابق ان کے والد رحیم پناہ گلگت بلتستان کے چیف سکرٹری رہ چکے تھے۔ ان کے  پڑ دادا ملا شکرت خلیفہ نے اس وادی میں اسماعیلی چراغ روشن کی رسم کی ابتدا کی تھی۔ اسی خاندان کے طومان بخدور اتالیق رہ چکے تھے۔ سلطان پناہ کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے بزرگ مذہبی پیشوائی کے ساتھ ساتھ حاکمان یسین کے اتالیقی کے عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ سلطان پناہ کے ساتھ تفصیلی گفتگو نہ ہوسکی کیونکہ ہماری خواتین اسکول کےباہر گاڑھی کے اندر ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔

چترال ‏میں ‏منی ‏ہائیڈرو ‏پاور ‏منصوبوں ‏کا ‏مستقبل

چترال میں درجنوں منی ہائیڈرو پاور (MHP) پروجیکٹس متعدد دیہاتی گھرانوں کو بجلی مہیا کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں کا آغاز آغا خان رول سپورٹ پروگرام (AKRSP) نے کیا۔ بعد ازاں سرحد رورل سپورٹ پروگرام ( SRSP) اور صوبائی حکومت نے بھی اس ماڈل پر چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھروں پر کام کیا اور کر رہےہیں۔ اگر ان چھوٹے منصوبوں کے ذریعے بجلی مہیا کرنے کی کوشش نہ ہوتی تو آج اکیسویں صدی کے ربع اول کے آخر میں بھی ہماری اولاد بجلی کی روشنی سے نابلد ہی رہتی۔ ہمارے ملک کے دور دراز پہاڑی علاقوں کے باسیوں کا مستقبل  توانائی کی ان چھوٹی چھوٹی یونٹوں سے وابستہ ہے۔ اگر غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ان ایم ایچ پیز کے بننے کے بعد صارفین کی حالات زندگی میں ترقی نمایاں نظر آئے گی۔ جگہ جگہ لکڑی، لوہے، آٹا پیسنے اور ویلڈنگ کی مشینیں کام کر رہی ہیں۔ گھریلو استعمال کی مشینوں نے خواتین پر کام کا بوجھ پچاس فیصد کم کر دیا ہے۔ اسی طرح ایندھن کے لیے جنگلات کی کٹائی کم ہو گئی ہے۔ ڈیزل انجنوں کا استعمال متروک ہو گیا ہے جس سے مضر صحت گیسوں کا اخراج گھٹ گیا ہے۔ نتیجتاً موسم پرخوشگوار اثرات مرتب ہوں رہے ہیں۔ سکول اور کالجوں کے بچوں کے

غیرز۔۔۔2

Image
غیرز۔۔۔2 وادئ یسین ( ویشرگوم) جناب قمر شہزاد صاحب سے رخصت لے کر گاوں جہوکئے سے چل پڑے تو وقت بعد دوپہر پونے چار بج چکے تھے۔ گوپیڅ (گوپیس) کے آغاز پر ہم اپنی دائیں طرف یسین کا پل غبور کرکے وادی یسین کا رخ کیا۔ پہلا گاؤں سیلی ہرنگ نام کا آگیا۔ خوبصورت گاوں لگا۔ پھر گاؤں   بلتر، دملگن ، گندائے، زیارت، بجیوٹ، منچی، یسین خاص ایک سے ایک دلکش لگا۔ کھلی وادی  دریا پار سندھی کا وسیع و عریض سرسبزو شاداب گاوں اور مڈوری قلعہ اور روڈ ویز طاوس کا ہموار خوبصورت گاؤں درست معنوں میں مور جیسا حسین ہے۔ یہاں شام ہونے لگی۔ سلطان آباد اور برانداس کے گاؤں شام کے دھندلکے میں اچھی طرح نہ دیکھ سکا۔ شام گزرنے کے بعد ہم میجر ڈاکٹر فیض امان کے گاؤں میں داخل ہوئے۔ یہاں ایک مسلہ یہ پیدا ہوا کہ ٹیلی نار کی سروس ختم ہوگئی اور فیض امان صاحب سے رابط ممکن نہ رہا۔ یہاں ایس کم کی سروس موجود ہے لیکن ہمارے پاس اسی کم کی سم نہیں تھی۔اب ہمیں ہر راہگیر سے اپنے میزبان کے گھر کا اتہ پتہ پوچھنا پڑا۔ اس پوچھ گچھ کے دوران  ایک ڈبل سواری موٹر سائکل کو اور ٹیک کیا ہمارے نوجوان پائلٹ منیر شمس نے اور پھر بریک لگایا تو میں نے ان موٹر سوا

جی ‏بی ‏کا ‏ضلع ‏غیرز

Image
گلگت بلتستان کا ضلع غیرز (غذر) ہم چترال والے اپنے مشرقی پڑوسی علاقہ غذر کو  "غیرز" بولتے رہے ہیں۔ 1914 تک غیرز اور بالائی چترال کے مستوج کٹورو حکمرانوں کے ماتحت ایک علیحدہ ریاست کی حیثیت رکھتے تھے جس پر خوشوقت کی اولاد حکمران رہی تھی۔ 1914 میں انگریزوں نے مہتر چترال شجاع الملک کی نو عمری سے فائدہ اٹھا کر غیرز کو مستوج سے الگ کرکے گلگت کے ساتھ شامل کر لیا۔ حسب وعدہ سرکار ہند مہتر سر ناصر الملک اور مہتر مظفر الملک نے غیرز کی سابق پوزیشن بحال کرنے کے لیے کوششیں کیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اہل چترال کا دعویٰ اب بھی زندہ ہے۔ غیرز اور چترال کی ثقافت معمولی فرق کے ساتھ  مشترک ہے۔ غیرز میں بھی ایک کثیر تعداد کھوار زبان بولتی ہے۔ رسم و رواج، شادی بیاہ کی رسمیں،مکانات کی طرز تعمیر، خوراک، پہناوا غرض ہر چیز مشترک ہے۔ ایک ہی نسل و قوم کے افراد دونوں علاقوں میں بستے ہیں۔ اہلیان چترال اور غیرز  کے درمیان رشتے داریاں ہوتی رہی ہیں۔ رشتے داری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ضلع غیرز میں چترال سے ہجرت کرنے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد موجود ہے۔ اس لیے چترال والوں کے لیے غیرز کوئی اجنبی علاقہ نہیں لگ

وادئ ‏ہنزہ ‏کی ‏ایک ‏جھلک۔۔۔6

ہنزہ کی پہلی معیاری درس گاہ آغا خان ہائیر سکینڈری اسکول کریم آباد، ہنزہ التیت اور بلتیت کے پرانے قلعے دیکھنے جانے کا یہ فائدہ ہوا کہ مجھے ہنزہ کی اس تاریخی درس گاہ میں بچوں اور اساتذہ کے ساتھ تبادلہ خیالات کا موقع ملا جس کا سنگ بنیاد اسمعیلی مسلم کمیونٹی کے روحانی پیشوا ہز ہائنس پرنس کریم آغا خان نے 1983 میں اپنے دست مبارک سے رکھا تھا۔ 1986 سے اس ادارے نے اپنے علم و ادب کے سفر کا آغاز کیا تھا۔   شروع میں یہ اکیڈمی تھی۔ بعد  ازاں اسے ہائر سیکنڈری اسکول کا درجہ دیا گیا۔ ادارے کی سنگ بنیاد کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ہزہائنس نے فرمایا تھا( ترجمہ) "یہاں کریم آباد میں دی آغا خان اکیڈمی شمالی علاقہ جات میں بچیوں کے لیے ہمارا پہلا ہائی اسکول اور اقامت گاہ ہوگی اور پاکستان میں ہماری ترقی کا سنگ میل ثابت ہوگی۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی کمیونٹی یا ملک کو عقل و دانش اور تخلیقی صلاحیتوں پر اجارہ داری حاصل نہیں ہوتی اور یہ مجھے  بہت ہی آہم لگتا ہے کہ آئیندہ سالوں میں شمالی علاقوں کا ہر وہ فرد جو تخلیقی صلاحیت رکھتا/رکھتی ہےاور جسے تعلیم تک رسائی حاصل ہے، چاہے وہ علمی ہو یا عملی، وہ فرد اپنے علم و دا

وادئ ہنزہ کی ‏ایک ‏جھلک۔۔5

وادئ ہنزہ کی ایک جھلک۔۔۔5 بلتت اور التت کے قلعے    میران ہنزہ کے بارے میں بہت کچھ سنتے رہے ہیں۔ ان کا اسماعیلی مذہب کے حوالے سے بھی بڑا نام ہے جب کہ گلگت بلتستان کی سیاست میں بھی پیشرووں میں آتے ہیں۔ انکو وراثت میں جو قدیم قلعے ملے تھے ان کے بارے میں ہمارا علم صفر تھا۔ جب آغا خان نٹ ورک کے ادارہ تحفظ ثقافت نے ان قلعوں کی بحالی کا ذمہ اٹھا کر انہیں پھر سے اصلی حالت میں بحال کیا تو ان کی شہرت ہم تک پہنچی۔ 1996 میں شیعہ امامی اسمعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا ہزہائنس پرنس کریم آغا خان چہارم نے صدر پاکستان فاروق احمد لغاری کو ساتھ لے کر اس کا افتتاح فرمایا تھا۔ پرانی چیزوں کو دیکھنے کا شوق مجھے ہمیشہ اس قسم کی تاریخی عمارتوں کی طرف کھینچتا رہا ہے۔ جس دن ہنزہ وادی کی سیر کا موقع ملا تھا اس وقت میرے ساتھ میرے گھر کے افراد کی ایک ٹولی تھی اور ڈرائیور ( برخوردارم صاحب کریم خان) پہاڑی علاقوں میں نیا نیا گاڑی چلا رہا تھا نیز گاڑی بھی نئی تھی۔ اس لیے بلتت قلعے کی چڑھائی چڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔وقت کی کمی بھی ایک وجہ تھی۔ 29 اور 30 اگست کی سیر سے جب واپس گلگت پہنچا تو برخورد عزیزم شمس ا

وادئ ‏ہنزہ ‏و ‏نگر۔۔۔4

Image
پیارے لوگ سہانی شام عطا آباد جھیل کے کنارے سے اس مہمان خانے کے پل پر قدم رکھنے کی ہمت نہیں ہوئی تو میں نے صاحب کریم خان کی جوان ہمت سے فایدہ اٹھایا اور اسے اس دیو مالائی قسم کی قیام گاہ کے اندر بھیجا۔ وہ بخیریت پل غبور کر گیا اور رزورٹ کے اندر گیا اور پھر واپس آکر ہمیں بھی پل غبور کرنے کو کہا۔ ہم بھی ایک ایک ہوکر پل سے گزرے اور قدموں کی معمولی اتار چڑھاؤ اور ڈگمگانے اور جسم کو ملنے والے ہلکے ہچکولوں کو ہم نے برداشت کر ہی لیا کیونکہ ہم اہل چترال اپنی سرکاروں کی کمال توجہ سے عمر بھر اس قسم کے جھولتے پلوں سے گزرتے رہے ہیں۔ آج سے پینسٹھ برس پہلے تک یارخون کے گاؤں پترانگاز اور اوڅھوہون کے مقام اتصال پر دریائے یارخون کے اوپر ایک پل ہوا کرتا تھا جسے تیلی سیری یعنی بید کا پل کہا جاتا تھا۔  یہ جالی پل بید اور سندر کی شاخوں کو بٹ کر بنائی گئی رسیوں سے بنا جھولا پل ہوتا تھا۔ چار موٹی رسیاں آر پار کینچھ کر دونوں اطراف میں دو دو دوشاخہ سخت لکڑی کے ستونوں کے اوپر سے گزار کر بڑے بڑے بھاری پھتروں باندھ دی جاتی تھیں۔ نیچے قدم رکھنے کے لیے قدم قدم پر انہی رسیوں کو باندھی جاتی تھی