Posts

دورہ ترکی سلسلہ 4

آرکیالوجیکل میوزیم استنبول جیسا کہ بتایا تھا کہ ٹوپقپی سرائے کے بیرونی صحن میں آثار قدیمہ کا عجائب گھر بھی قائم ہے۔ بائیں ہاتھ میں ایک گلی نیچے اترتی ہوئی موجود ہے جس کے دو...

دورہ ترکی۔سلسلہ 3

توپقپی سرائے( Topkapi palace) استنبول کا مشہور ترین مقام سلطان احمد نیلی مسجد اور آیا صوفیا میوزیم کے علاوہ توپقپی سرائ کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ توپقپی کا لغوی معنی توپ دروازہ کے ہے...

دورہ ترکی سلسلہ 2

 سفر ترکی کے بارے میں کچھ لکھنے سے پہلے ترکی کے مختصر جغرافیہ اور تاریخ کے بارے قارئین کے معلومات کو تازہ کرنا مناسب  ہوگا۔ جمہوریہ ترکی کے شمال مشرق، مشرق، جنوب مشرق اورجنوب میں بالترتیب جارجیہ، ازربائجان، آرمینیا،ایران، عراق اور شام کے ممالک اور میڈٹرینین سی ہے۔ اس کے شمال میں بلیک سی اور مغرب میں بلغاریہ اور یونان  کے ممالک ہیں۔ یہ دو براعظموں کے سنگھم میں ہے جسکا ایک حصہ ایشیا میں اور ایک حصہ یورپ میں واقع ہے۔ ترکی کا دارلحکومت انقرہ ہے۔ اسکی ابادی کم و بیش آٹھ کروڑ ہے۔ اس کی کرنسی لیرا ہے جو ہمارے روپیہ سے قیمت کے لحاظ سے چھبیس گنا  بڑا ہے۔ استنبول ترکی کے قدیم ترین تاریخی مقامات کا امین شہر ہے جہاں صدیوں پرانی انسانی تاریخ کی یاگاریں اس دور کےکاریگروں کے کمال فن  کی شاہد ہیں۔ اسی شہر میں بحر مارمارا اور بحر اسود آپس میں ملتے ہیں۔ شہر قونیہ حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت شمس تبریزی رحمت اللہ علیہ اور دوسرے صوفیائے کرام کے قدموں کے طفیل قابل احترام یے۔ ان کے علاوہ یہ ترکی یہی ہے جہاں کے کوہ جودی کی چوٹی پر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی لنگر اند...

دورہ ترکی

دورہء ترکی  ہماری پیاری بیٹی ڈاکٹر زبیدہ،  عزیز داماد صاحب کریم خان اور بہت ہی پیارا نواسہ  ہادی محمد غوث کو آئیرلینڈ گئے گیارہ مہینے گزرچکے تھے۔ ان کو ملنے کو جی بہت چاہ رہا تھا۔ اُدھر وہ بھی ہمیں بہت مس کر رہے تھے۔ خاص کرکے ہادی ہمیں اور ہم اسکو بہت یاد آ رہے تھے۔ سال کے شروع میں ہم ائیرلینڈ جانے کے لیے ویزے کی درخواست دی تھی۔ چند تکنیکی وجوہات کی بنا پر ویزا نہ مل سکا۔ پھر بچوں نے مشورہ دیا کہ ہم ترکی کا ویزا حاصل کریں اور وہ بھی ترکی آئیں گے تاکہ وہیں پر چند دن اکھٹے رہ سکیں اور ترکی کے تاریخی مقامات کی سیر بھی کرسکیں۔ مشورہ پسند آیا کیونکہ ترکی دیکھنے کی آرزو پہلے ہی سے دل میں موجزن تھی۔ خاص کرکے استنبول کے تاریخی مقامات اور قونیہ میں حضرات پیر شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارات پر حاضری کی تمنا  تھی۔ اس لیے میں اور میری اہلیہ نے ترکی کے پندرہ روز کے ویزا کے لیے درخواست جمع کرائی تو ایک ہفتے کے اندر اندر ویزا مل گیا۔ میں نے کہا،" مرحبا اپنا تو اپنا ہوتا ہے" بغیر کسی جھنجھٹ کے ترکی جانے کی اجازت مل گئی۔ اسی طرح پیچھلے سال ہم نے دُ...

بزرگ پنشنرز

دنیا کے تمام معاشروں میں بزرگوں کو عزت کا مقام حاصل ہے۔ خاص کرکے اسلام کے ماننے والے معاشروں میں ان کی بڑی عزت کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ نشست و برخاست سے لے کر گفتگو تک ان کا لحاظ ترجیحی ہوتا ہے۔ اگر ہم مختلف ثقافتوں کے حوالے سے گھروں اور گاؤں/ محلوں کی سطح پر کبرسن افراد کا رتبہ دیکھیں تو میری اپنی ثقافت یعنی کھو ثقافت ( جسے چترالی ثقافت بھی کہا جاتا ہے) میں یہ نمایاں نظر آتا ہے۔ کھو لوگوں کے بزرگ افراد کی نشست گھر کے دوسرے افراد سے زیادہ آرام دہ اور سب سے آگے ہوتی ہے۔ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ان کے ہاتھ سب سے پہلے دھلوائے جاتے ہیں۔ دسترخوان سب سے پہلے ان کے سامنے بچھایا جاتا ہے۔ کھانا سب سے پہلے ان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ جب وہ اپنی نشست سے اٹھ جائیں تو اہل محفل ان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب تک وہ نہ بیٹھیں سب ان کے احترام میں کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے بیٹھ جانے کے بعد ہی اہل محفل بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی طرح چلنے پھیرتے ہوئے بزرگ فرد ہمیشہ آگے رہتا ہے۔ اس سے آگے قدم رکھنا بے دبی خیال کیا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والا شخص اگر بزرگ ہو اس کے لیے نہ اٹھنا بداخلاقی میں شمار ہوتا ہے۔ عام طور...

روس کی سی پیک میں شمولیت

بین الاقوامی سیاست اور تعلقات کا علم ہمیں حاصل نہیں ہے پھر بھی روس کی سی پیک پروجیکٹ میں شمولیت کی خبر سے دل خوش ہوا۔ پاکستان اور روس کی ایک دوسرے سے دوری ہمیں کھٹکتی رہی ہے۔ پہلے زمانے میں کمیونزم سے خوفزدہ تھے اس لیے روس کو اپنا بڑا دشمن سمجھتے رہے۔ دوسری بات روس اور بھارت کے دوستانہ تعلقات دیکھ کر ہم نے روس کو اپنے بدترین دشمنوں کی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔ اس کے بعد جب روس افغانستان پر دھاوا کیا اور قابض ہوا تو ہمارا پرانا خوف حقیقت میں بدلتا ہوا نظر آیا اور ہم نے پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور جیت بھی گئے۔ حقیقتاً ہم نے شدید نقصان اٹھایا جن کی تفصیل ہم سب جانتے ہیں۔ ہم نے امریکہ کو اپنا گہرا دوست اور نجات دہندہ مانا۔ افغانستان سے روس کی پسپائی کے بعد ہمارا خیال تھا کہ اب ہم دو مسلمان قریبی پڑوسی ممالک میں محبت پروان چڑھے گی مگر ایسا نہ ہوا بلکہ افغانستان والے ہمیں اپنا بدترین دشمن سمجھنے لگے۔ اس احسان فراموشی پر ہمیں بے حد رنج ہوا۔ افغانوں کی ہمارے ساتھ خدا واسطے بیر کو دیکھ کر ہم نے یقین کرلیا کہ افغان ہمارے  دوست نہیں ہوسکتےہیں۔ اس نا امیدی کے عالم میں ہمیں افغانستان کے...

ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے لیے چیلینجز

ضلع اپر چترال کے لیے ڈی سی کی تعئیناتی کیساتھ نیا ضلع فنکشنل ہوا۔ آج یوم مزدور کی چھٹی کے دن  اپر چترال کے ڈی سی کا ضلعے کےہیڈ کوارٹر بونی پہنچنے کی خبر ملی ہے۔  جہاں پی ٹی ڈی سی موٹل میں ان کے استقبال کی خبر ہمیں فیس کی وساطت سے ملی۔ ہم مسٹر سعود کو دل کی گہرائیوں سے خوش امدید کہتے ہیں۔ علاقے کے عمائدین اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے ان کا استقبال کیا ہوگا۔  تصویر سے لگتا ہے کہ اپرچترال کے ڈی سی صاحب جوان آدمی ہیں۔ ان کا انتظامی تجربہ کتنا ہے یہ ہمیں نہیں معلوم تاہم یہ بات یقینی ہے کہ موصوف کم از کم پی ایم ایس آفیسر ہوں گے اور ایک ضلعے کےانتظامی سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی سرکار نے بالائی چترال یعنی سب ڈویژن مستوج کا دیرینہ مطالبہ منظور کرکے عوام کا دل جیت لیا ہے لیکن بغیر مطلوبہ فنڈز اور انفراسٹرکچر کے ضلعے کا وجود میں آنا بہت ساری مشکلات سے نہ صرف انتظامیہ کو دوچار کرے گا بلکہ عوام بھی شدید متاثر ہوں گے۔ عوام کی اکثریت نئے ضلعے کی انتظامیہ سے بڑی بڑی تواقعات  وابستہ کرے گی۔ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کے پاس وسائل و ذرا...