Posts

بزرگ پنشنرز

دنیا کے تمام معاشروں میں بزرگوں کو عزت کا مقام حاصل ہے۔ خاص کرکے اسلام کے ماننے والے معاشروں میں ان کی بڑی عزت کی جاتی ہے۔ ان کے ساتھ نشست و برخاست سے لے کر گفتگو تک ان کا لحاظ ترجیحی ہوتا ہے۔ اگر ہم مختلف ثقافتوں کے حوالے سے گھروں اور گاؤں/ محلوں کی سطح پر کبرسن افراد کا رتبہ دیکھیں تو میری اپنی ثقافت یعنی کھو ثقافت ( جسے چترالی ثقافت بھی کہا جاتا ہے) میں یہ نمایاں نظر آتا ہے۔ کھو لوگوں کے بزرگ افراد کی نشست گھر کے دوسرے افراد سے زیادہ آرام دہ اور سب سے آگے ہوتی ہے۔ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ان کے ہاتھ سب سے پہلے دھلوائے جاتے ہیں۔ دسترخوان سب سے پہلے ان کے سامنے بچھایا جاتا ہے۔ کھانا سب سے پہلے ان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ جب وہ اپنی نشست سے اٹھ جائیں تو اہل محفل ان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور جب تک وہ نہ بیٹھیں سب ان کے احترام میں کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے بیٹھ جانے کے بعد ہی اہل محفل بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی طرح چلنے پھیرتے ہوئے بزرگ فرد ہمیشہ آگے رہتا ہے۔ اس سے آگے قدم رکھنا بے دبی خیال کیا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والا شخص اگر بزرگ ہو اس کے لیے نہ اٹھنا بداخلاقی میں شمار ہوتا ہے۔ عام طور...

روس کی سی پیک میں شمولیت

بین الاقوامی سیاست اور تعلقات کا علم ہمیں حاصل نہیں ہے پھر بھی روس کی سی پیک پروجیکٹ میں شمولیت کی خبر سے دل خوش ہوا۔ پاکستان اور روس کی ایک دوسرے سے دوری ہمیں کھٹکتی رہی ہے۔ پہلے زمانے میں کمیونزم سے خوفزدہ تھے اس لیے روس کو اپنا بڑا دشمن سمجھتے رہے۔ دوسری بات روس اور بھارت کے دوستانہ تعلقات دیکھ کر ہم نے روس کو اپنے بدترین دشمنوں کی صف میں لا کھڑا کیا تھا۔ اس کے بعد جب روس افغانستان پر دھاوا کیا اور قابض ہوا تو ہمارا پرانا خوف حقیقت میں بدلتا ہوا نظر آیا اور ہم نے پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور جیت بھی گئے۔ حقیقتاً ہم نے شدید نقصان اٹھایا جن کی تفصیل ہم سب جانتے ہیں۔ ہم نے امریکہ کو اپنا گہرا دوست اور نجات دہندہ مانا۔ افغانستان سے روس کی پسپائی کے بعد ہمارا خیال تھا کہ اب ہم دو مسلمان قریبی پڑوسی ممالک میں محبت پروان چڑھے گی مگر ایسا نہ ہوا بلکہ افغانستان والے ہمیں اپنا بدترین دشمن سمجھنے لگے۔ اس احسان فراموشی پر ہمیں بے حد رنج ہوا۔ افغانوں کی ہمارے ساتھ خدا واسطے بیر کو دیکھ کر ہم نے یقین کرلیا کہ افغان ہمارے  دوست نہیں ہوسکتےہیں۔ اس نا امیدی کے عالم میں ہمیں افغانستان کے...

ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے لیے چیلینجز

ضلع اپر چترال کے لیے ڈی سی کی تعئیناتی کیساتھ نیا ضلع فنکشنل ہوا۔ آج یوم مزدور کی چھٹی کے دن  اپر چترال کے ڈی سی کا ضلعے کےہیڈ کوارٹر بونی پہنچنے کی خبر ملی ہے۔  جہاں پی ٹی ڈی سی موٹل میں ان کے استقبال کی خبر ہمیں فیس کی وساطت سے ملی۔ ہم مسٹر سعود کو دل کی گہرائیوں سے خوش امدید کہتے ہیں۔ علاقے کے عمائدین اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے ان کا استقبال کیا ہوگا۔  تصویر سے لگتا ہے کہ اپرچترال کے ڈی سی صاحب جوان آدمی ہیں۔ ان کا انتظامی تجربہ کتنا ہے یہ ہمیں نہیں معلوم تاہم یہ بات یقینی ہے کہ موصوف کم از کم پی ایم ایس آفیسر ہوں گے اور ایک ضلعے کےانتظامی سربراہ کی حیثیت سے اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی سرکار نے بالائی چترال یعنی سب ڈویژن مستوج کا دیرینہ مطالبہ منظور کرکے عوام کا دل جیت لیا ہے لیکن بغیر مطلوبہ فنڈز اور انفراسٹرکچر کے ضلعے کا وجود میں آنا بہت ساری مشکلات سے نہ صرف انتظامیہ کو دوچار کرے گا بلکہ عوام بھی شدید متاثر ہوں گے۔ عوام کی اکثریت نئے ضلعے کی انتظامیہ سے بڑی بڑی تواقعات  وابستہ کرے گی۔ دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کے پاس وسائل و ذرا...

اوٹگُݰ کورک

 کھوار کی واحد لغت جناب ناجی خان ناجی نے لکھی ہے جو میرے پاس نہیں ہے اس لیے "اوٹگُݰ کورک"  کا درست معنی یا مطلب بتا سکوں گا یا نہیں اس بارےبکچھ نہیں کہہ نہیں سکتا۔ ویسے بھی اہل تورکھو اپنے آپ کو اصلی اہل زبان گردانتے ہیں۔ مجھے یہ فعل کسی کھوار تحریر میں آج تک نظر نہیں آیا ہے۔ اس لیے رائے دینے کی سب کو دعوت ہے۔  عملی زندگی میں اس فعل کا استعمال روز کا معمول ہے۔  ہم انسانوں میں بہت کم ایسے افراد موجود ہیں جو اپنے         بارے میں کسی سچی تنقید کو  خوشدلی سے قبول کریں گے۔بماری اکثریت اس بردباری سے محروم ہے۔ جب کوئی میرے سامنے میری رائے کے خلاف بولے یا میری غلطی کی نشاندھی کرے تو میں اسے برا مناتے ہوئے کچھ بولے بغیر محفل سے اٹھ کر چلا جاؤں تو میرے متعلق کہا جائے گا کہ " ہیس اوٹگݰُ کوری پیڅھی بغئے" یعنی اس نے برا منایا اور محفل سےچلا گیا۔ اسی طرح میں اپنے بیٹے یا کسی برخوردار کو کسی کام کے کرنے کا کہتا ہوں۔ وہ کسی وجہ سے بروقت حکم بجا نہیں لا پاتا اور میں اٹھ کر وہ کام خود کرنے لگ جاتا ہوں۔ تو میری یہ حرکت " اوٹگُݰ کورک" کہلائے گی۔ یامیری کس...

مذہبی ہم آہنگی

عرصے سے ایک سوال میرے ذہن پر سوار رہا کہ  آخر اپنے چترال کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ کون سی بات ہے یا کون لوگ ہیں جو پرامن ماحول نہیں چاہتے؟                ماضی کا مطالعہ کیا جائے تو بیسویں صدی کے نصف اول کے دوران مولائیوں ( اس زمانے میں اسمعیلی مولائی کہلاتے تھے) کو سنی مسلک اختیار کرنے کی ظرف راغب کرنے کی کوششیں ہوئی تھیں جس میں حکمرانان وقت کا ہاتھ تھا۔ اس کےبعد 1982  میں پہلی دفعہ چترال میں سنی اسمعیلی تصادم ہوا جس میں دونوں طرف سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ دونوں طرف کے مقتولین کو ان کے فرقوں کی طرف سے شہادت کا درجہ دیا گیا۔ اس مذہبی تصادم کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا یہ معلوم نہ ہوسکا کیونکہ سرکار ایسے واقعات پر مٹی ڈال دینے کی روایت پر قائم تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ دونوں طرف کے پرامن لوگ اس ناخوشگوار واقعے پر انتہائی  افسوس کیا اور اب بھی کرتے ہیں۔ اسمعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا یزہائنس پرنس شاہ کریم الحسینی آغاخان نے بھی اس موقع پر انتہائی دکھ اظہار کیا تھا۔ اس افسوسںناک حادثےکے بعد چند ایک تصادم کے حالات پی...

سیاسی مداخلت کی کہانی

یہ 2003 تھا۔ متحدہ مجلس عمل کا (سابق) صوبہ سرحد کا اقتدار سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعد محکمہ تعلیم سے سیاسی مداخلت کا بوریا بستر اٹھوانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بڑی بڑی کرسیوں پر براجمان بقراطوں نے صرف ایک "مجرب" نسخے کے ذریعے سب کچھ درست کرنے کا سہانا خواب دیکھا اور محکمہ تعلیم کو تدریسی اور انتظامی شعبوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا۔  تجاویز تیار کی گئیں کہ اسسٹنٹ سب ڈویژنل آفیسر سے لےکر اگزیکٹیو ڈسٹرکٹ آفیسر اور اسسٹنٹ ڈئریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کا انتخاب صوبائی پبلک کمیشن کے ذریعے کرایا جائے گا۔ تجاویز کو ختمی شکل دیدی گئی۔س سینئیرسٹافایسوسی ایشن نے سرکار کےاس فیغکےکی مخالفت کی۔ اس بابت سیکرٹری محکمہ تعلیم کے ساتھ چند ایک ناکام میٹنگیں ہویں۔ آخری میٹنگ سے سیکرٹری صاحب نے واک آؤٹ کرگیا کیونکہ ان کے پاس ہمارے اعتراضات کا معقول جواب نہیں تھا۔ حکومت کا موقف تھا کہ انتظامی کیڈر کو صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سلیکٹ کیا جائے اور ٹیچنگ سے الگ کیا جائے  تو سیاسی مداخلت بند ہو جائے گی۔ ہماری دلیل تھی کہ اس اقدام سے سیاسی مداخلت اور بڑ جائے گی۔ صوبائی سطح پر سکیکشن کا مطلب یہ ہوگا کہ زی...

یہ الزام تراشیاں؟

ہوش سنبھالنے کے بعد جب تھوڑا سا سیاسی شعور پیدا ہوا ہے اس دن سےمیں ہر حزب اختلاف کے منہ سےحزب اقتدار پر اور ملکی اداروں پر جانب داری کے الزامات سنتا رہا ہوں۔ اسی طرح اقتدار والوں کی طرف سے سابقہ حکومتوں پر ملک لوٹنے یا ملک کے مفادات کا  سودہ کرنے کے الزاما ت کا ٹھپہ لگتا رہا ہے۔ دعواوں میں کتنی صداقت تھی یا کتنا جھوٹ تھا اس کا پتہ نہ چل سکا۔ سرکاری ملازم کی حیثیت سے ملک میں جمہوری اور فوجی حکومتوں  کے ماتحت کام کیا اور ان کا قریب سے مطالعہ اور مشاہدہ کیا۔ کس نے نسبتاًاچھی حکومت کی اور کس نے بری حکمرانی کی اس کا بھی اپنی سمجھ کے مطابق علم حاصل ہوا۔  حیرانگی یہ رہی کہ سیاسی لیڈروں نے ہمیشہ عوام کو بے وقوف سمجھا اور بنایا بھی۔ دوسری طرف عوام کو بھی باشعور ہوتے نہیں دیکھا۔ اپنے لیڈروں کے منہ سے جو جھوٹ  سنا اسے پیر و مرشد کا فرمانا مانا۔ ہر پارٹی کے رہنما اپنے ووٹروں کی نظروں میں فرشتہ ہی نظر آیا اور مخالف پارٹی والے سارے شیطان کے چیلے لگے۔ اس طرح عوام الناس چند سیاسی مداریوں کے ہاتھوں میں کھلونےبنتے رہے۔ ملک لٹتا رہا۔ عوام غربت کی چکی میں پستی رہی مگر لیڈروں کے حق میں گ...