Posts

قلمقو ژوئے

وادی یارخون کے قدیم ترین گاونوں میں ایک گاؤں بانگ بھی ہے۔ آج تک یارخون میں قدیم ابادی کی نشاندھی کسی مورخ یا ماہر آثار قدیمہ نے  نہیں کی ہے تاہم قدیم درختوں اور قبروں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ گاوں بانگ  یہاں کے قدیم ترین گاونوں میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ اس کے دو حصے بانگ پائین اور بانگ بالا ہیں۔ ان دونوں حصوں کا فقط تھوڑا سا حصہ قدیم سے آباد تھا۔ بانگ پائین کا ڈام اور اردگرد کا حصہ اور بانگ بالا کی سب سے نیچلی نہر کے نیچے کا حصہ جو موجودہ سڑک سے دریا کی طرف کا حصہ ہے یعنی سوروگاز سے ملحق سیدانن دہ ، غورغوڑونگ، بیگاندور اور لوانڈوک۔ بانگ بالا کی دوسری نہر قلمقو نیزیرو ژوئے" یعنی قلماق کی بنائی ہوئی نہر کے نام سے مشہور ہے۔ قلماق کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی وحشی اور درندہ صفت قوم تھی جو شمال سے آکر اس وادی میں لوٹ مار اور قتل وغارت کا بازار گرم  کیا کرتی تھی۔ یہاں لوگوں کا جینا حرام تھا۔ اس لیے لوگ ان کی آمد کا سن کر پہاڑوں میں غاروں کے اندر چھپ جایا کرتے تھے۔اس نہر کی تعمیر کی کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے۔  زوندران یارخون کے ایک پڑ پڑ دادے کا نام ...
  انتہا کی مہنگائی اورعوام کی خاموشی شیرولی خان اسیر پی ٹی آئی حکومت کے ابتدائی مہینوں میں مہنگائی تاریخ کی سب سے اونچی سطح کو چھو رہی ہے۔ معاشی لحاز سے پست  طبقے کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔ ڈالر کی قیمت بھی بلند ترین   سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اب جس کی تنخواہ یا   آمدنی   بیس ہزار تھی وہ اپنی قدر کے لحاظ سے   17 ہزار سے بھی کم   رہ گئی ہے۔   تیل کی قیمتیں بڑھنے سے گاڑیوں کا کریہ بھی بڑھ گیا ہے۔   کم آمدنی والے شہری اس وقت   سخت مشکل میں ہیں۔ اس تمام کے باوجود عوام پریشان نہیں ہیں۔ جہاں تک حذب مخالف کی چیخ و پکار کا تعلق ہے وہ خالص سیاسی نوعیت کی ہے۔ عوام کے اس صبرو تحمل کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کچھ بھی کرے وہ   برداشت کرتے جائیں گی۔   اس وقت وہ حکومت کو سانس لینے کا موقع دے رہی ہیں۔ انہیں اس بات کا تجربہ ہے کہ تین چار مہینوں میں کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ انتخابی دعوا وں سے بھی عوام پوری طرح باخبر ہیں کہ   یہ محض الیکشن جیتنے کے حربے ہوتے ہیں۔   آج کی عوام پہلی والی سیدھی سادھی بھی نہیں رہی ...

اسیرو زندگی۔۔۔۔۱۳

اسیرو زندگی ۔۔۔۱۳   اویلو ݯھوغیار اچی وا کندوری ݯحوغی ارو رے ناگہہ کوس بشار کورارو گوئے، ہیرین دیتی اچھو ݯھوغیان لوو دک دی ضروری مگم ہنیسے نو دوم۔ ہار قصہ تان وختو سُم باو گوئے۔ فلحال اسکولو چے سبقو لوان دوسی کوریکوکہ ہتے زندگی مہ یادار نو بیران۔  ہتے جو تروئے سال مہ زندگیو جم سال نو اوشونی۔ مہ تتو چے مہ میکی حبیب اللہ خان کہ ہسے امیر نمو سورا زیادہ مشور اوشوئے او نسہ مہ تے نالائق رے غیرت بیگ استاد مہ بئیزت کوری پیڅھی استئے۔ ہسے مہ ژنہ گلمیخ بتی بہچی اوشوئے۔ تان نالائیقیو دودیری کوری تان عزتو بحال کوریکو بچے چھویو درونگار نشی اورارو پالیک تان ژاغا۔  تے اچتو ریزگیلئیو میکیو ومدار بتی غمژونی بہچیتم۔ ومداریار خلص بکو بچے تاندوری تن ݯھوغ دی چوکیتم۔ ہسےسُم جُستہ اردوا نالائیقیو فکر غیچہ اورارو اوئے۔ ہتے زمانو نو روخڅک کیہ نوژان نو۔ بریکہ پت نو رخڅم۔ ۔  جوو جماعتہ پاس بتی ترویا ہاتم مگم اردوو مہ سُم خروݰی تن بہچیتئے۔ نہ عبارتو پتہ دوم نہ ترجمو۔ املا ریکو بو دودیری لو۔ہتے سالو موژی ہونزیک استاد محمد کریم دی بدل ہوئے۔  ہتو ژغا ای نوجوان استاد ہائے۔ ھ نوغ استادو نم س...
Image
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی چترال   کی مخدوش حالت کا ذمے دار کون؟                                                                                                                                     [AH1]   پیچھلے سال نومبر کی کسی تاریخ کو بونی کے سرکاری ہسپتال جانے کا اتفاق ہواتھا۔ ہسپتال کی حالت زار دیکھ کر رونا آیا تھا اور اس کی حالت کا نق...

امہ ویلفیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام فری آئی کیمپ

Image
  جیسا کہ پہلی تحریر میں بتایا تھا کہ رات گیارہ بجے تک ڈاکٹروں نے  آنکھوں کا اپریشن جاری رکھا۔ اس وقت تک  کوئی 13 گھنٹے کام کرچکے تھے۔ رات گیارہ  بجے تک جب بچی گھر واپس نہیں آئی تو مجھے تشویش ہوئَی اور بذات خود  ان کا حال پوچھنے  ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی کےآپریشن تھیٹر پہنچا۔ دیکھا کہ آئی سرجن ڈاکٹر زاہد اور ان کی سرجیکل ٹیم مصروف کار تھی۔آئی سرجن کی اس مشقت کوشی کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے  چہرے پر انتہائی تھکاوٹ صاف نظر آرہی تھی جبکہ ان کے لبوں پہ مسکراہٹ تھی۔ میں نے سوچا  کہ دنیا میں اب بھی مسیحا موجود ہیں۔ واقعی مسیحا ایسا ہوتا ہے جو اپنا آرام و سکون، اپنی نیند اور اپنی جسمانی خواہشات  دکھی انسانیت کے لیے قربان کردے۔   یہاں سینکڑوں میل دور سے ضعیف العمر مریض آئے ہوئے تھے۔ اس لیے ڈاکٹر نے آپریشن جاری رکھا تھا۔ اس طویل اور مسلسل کام  کی وجہ سےسرجن  عمر زاہد خٹک کی پیٹھ شاید بری طرح دکھ رہی تھی اس لیے ٹیم کی منتظم لیڈی ڈاکٹر افشان وقفے وقفے سے ان کی پیٹھ دبائے جارہی تھی۔ میں نے دکھی انسانیت کے ان خادموں کو دل کی گہرایوں ...

امہ ویلفیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام فری آئی کیمپ

Image
تین دن پہہلے مجھے یہ خوشخبری ٹی  ایچ کیو ہسپتال بونی کے ایم ایس نے کھڑے کھڑے دی تھی جب وہ  ہسپتال کی او پی ڈی کوریڈور میں  چند حضرات کے ہمراہ ملے تھے۔ وہ بہت جلدی میں تھے اس لیے اتنا بتا دیا کہ ایک دو روز بعد یہاں فری آئی کیمپ لگے گا۔  وہ اس سلسلے میں انتظامات کرنے جارہے تھے۔ میرا دل خوش ہوا کہ کم ازکم ضلع سے باہر کے ڈاکٹر صاحبان کو یہاں کی مجبور عوام پر رحم آیا۔ پھر تھوڑی تفصیل اپنی بیٹی ڈاکٹر زہرہ بولی خان کی زبانی ملی۔  معلوم ہوا  یہ مفت علاج کا اہتمام " امہ ویلفیر ٹرسٹ نوشہرہ " نے کیا ہے۔ یہ  تعجب کی بات ہے کہ  ہسپتال کے ایم ایس صاحب نے اس آہم کیمپنگ کی بابت اپنے سٹاف کے ساتھ میٹنگ نہیں کی تھی ہم نے سوچا کہ انتظامات مکمل طور پر کئے گئے ہوں گے۔ ہم نے بھی اپنے بڑھے بوڑھوں کو بلایا تاکہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ببینائی واپس حاصل کرنے کا موقع پا سکیں۔ صبح کوئی دس بجے کے لگ بھگ مجھے فون کیا گیا کہ میں اپنے مریضوں کو متعلقہ  کلنیک پہنچاوں ۔ یہاں ایک بے ترتیب ہجوم سے واسطہ پڑا۔ مجھے ایسا لگا کہ میں انتہائی بدنظم افراد میں گھر گیا ہوں۔  م...

چوری کا کھوج

میں نے اپنے بچپن کی چوری کا واقعہ  " اسیرو زندگی۔۔۔12" (کھوار زبان میں)میں بیان  کیا تھا جس کا کھوج لگانا دور کی بات چوری کی واردات کا  بھی کسی کو پتہ نہ چلا تھا لیکن ایک اور بڑی چوری کا کھوج اسی ذہین بںندے نے لگایا تھا جس کے یہاں سے میں نے  زندگی کی پہلی چوری کی تھی۔ اپنی اس پہلی چوری کا واقعہ میں نے اپنے ایک کالم "معصوم چور" کے عنوان  سے عرصہ پہلے لکھا تھا جو شاید چترال ٹوڈے کے کسی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ آج جس چوری کے کھوج کی بات کرنے جارہا ہوں یہ واقعہ "بانگ گول"کے "گراگار" نام کی غاری میں پیش آیا تھا اور میرے والد محترم لغل  خان لال المعروف چارغیریو لال( اللہ انہیں معفرت نصیب کرے) نے اس کا کھوج لگایا تھا۔اس سے پہلے کہ وہ سٹوری سناوں، علاقے  اور اس مضمون میں مذکور ہونے  والےکھوار ناموں اور اصطلاحات کا مختصر تعارف ہوجائے تو غیر چترالی قاری کو سمجھنے  میں آسانی ہوگی۔ گاوں بانگ چترال کی وادئ یارخون کے قدیم ترین بستیوں میں سے ایک ہے جو چترال سے 155 کلومیٹر، مستوج سے  45 اور یارخون کے پہلے گاوں  بریپ سے 20 کلومیٹر شمال مشرق میں دری...