Posts

آئرلینڈ یاتر۔۔۔ا19

گالوے کا شہر ہم نے گالوے جانے کا پروگرام خاص کرکے اس وجہ سے بنایا کہ میری بیٹی ڈاکٹر زبیدہ سرنگ نے یہاں گالوے یونیورسٹی ہسپتال میں ایک سال اپنے سپشلائزیشن کے لیے ریزیڈنسی کرتی رہی تھی اور اس کا شریک حیات صاحب کریم خان نیشنل یونیورسٹی گالوے سے ڈگری حاصل کی تھی۔ لہذا اس شہر کا میرے خاندان پر احسان تھا۔ ان اداروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی آرزو بھی تھی۔ اس لیے بس میں سوار ہوکر صاحب کریم خان اور ہادی غوث کی رہنمائی میں میں اور بیگم صاحبہ نے گالوے کا سفر کیا۔ ڈھائی گھنٹے کا یہ سفر بہت خوشگوار رہا۔ سرسبزو شاداب علاقوں سےگزرے۔ انسانی آبادی کم نظر آئی جب کہ کھیت، جنگلات اور لہلہاتی گھاس کے وسیع و عریض میدانوں اور ٹیلوں کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئرلینڈ میں زمین کی کمی نہیں البتہ آبادی تھوڑی ہے۔ ڈبلن سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر مشرق کی جانب بحر اوقیانوس کے مغربی کنارے پر واقع چھوٹا خوبصورت شہر گالوے آئرلینڈ کا چھٹا بڑا شہر ہے اور صوبہ کونٹ کا واحد مرکزی مقام ہے۔ یہ شہر دریائے کوریب Corrib کے کنارے کوریب جھیل اور  گالوے خلیج  کے درمیان واقع ہے۔ اس کی آبا...

ٹُٹیو قہرو مٹُٹیو سورا نیزک

چترال کے کھوار اہل زبان اس ضرب المثل کا مطلب جانتے ہیں۔ غیر چترالی اس مختصر تحریر کو پڑھنے کے بعد جان پائیں گے کہ کہانی کیا ہے۔ میں اور میری اہلیہ آئرلینڈ میں زیر تربیت ہماری بیٹی  اور اس کی فیملی کی دعوت پر ڈھائی مہینے ان کے ساتھ بڑا خوشگوار وقت گزارنے کے بعد جب قطر ائیرویز کے ذریعے 6 مارچ کی رات دوبجے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اترے تو کرونا وائرس کی دہشت دنیا میں پھیل چکی تھی اور ملک آنے والے مسافروں کی باقاعدہ سکریننگ شروع ہو چکا تھا۔ ہماری بھی سکریننگ کی گئی اور تحریری انڈر ٹیکنگ لی گئی کہ ہم نے گزشتہ اتنے عرصے کے دوران چین، ایران اور اٹلی کا سفر نہیں کیا ہے اور ہم میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی کوئی علامت موجود نہیں ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب آئرلینڈ میں کوئی تین مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی تھی۔ پاکستان میں کوئی نو دس افراد زیر علاج تھے۔ چین، ایران اور اٹلی سب سے بڑے متاثر تھے اور ہزاروں کی تعداد میں اموات ہوچکی تھیں۔ میڈیا کے ذریعے بین الاقوامی صحت کی تنظیم، ملک کا محکمہ صحت اور انفرادی ماہرین صحت نے جن احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایتیں  دی تھیں اور دے رہے تھ...

آئرلینڈ یاترا۔۔۔18

آئرلینڈ یاترا۔۔۔16

آج تک میں نے آئرلینڈ کے صوبہ لینسٹر اور خاص کرکے صدر مقام ڈبلن شہر کی قدیم یادگاروں اور پارکوں کی سیر کی۔ اب ذرا شہر سے باہر جھانکنے کی بھی کوشش کریں گے۔ ایک خاص بات یہاں کی یہ ہے کہ آئرش لوگ اپنی قدیم تاریخی عمارتوں کو اپنی اصلی حالت میں زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضے بھی پوار کرتے جا رہے ہیں۔ عصر نو کا فن تعمیر بھی پرکشش اور پرشکوہ ہے۔ پانج چھہ منزلوں کی جدید عمارتوں کا بیرونی حصہ زیادہ تر شیشوں پر مشتمل ہے۔ نئی تعمیرات میں سموئیل بیکٹ بریج فن تعمیر کا قابل ستائش نمونہ ہے جو دریائے لیفی کے اوپر بنایا گیا ہے۔ یہ جنوب میں سرجان راجرز کوئ یعنی گھاٹ (quay) اور شمال میں گولڈ سٹریٹ اور نارتھ وال کوئ  کو ملاتا ہے۔ اس پل کا ڈیزائن آئرلینڈ کے قدیم اور قومی آلہ موسیقی Harp کی شکل کا ہے جو ایک جھکےستون کے سہارے31 آہنی رسیوں کی مدد سے کھڑا ہے۔ اس کا ڈیزائن Santiago Calatrava  نے تیار کیا تھا اور تعمیر ڈچ کمپنی Garham Hollandia Joint  Venture  نے کی۔ 2007 میں کام کا آغاز کیا اور 2009 کے دوران مکمل کرلی۔ 10 دسمبر 2009 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ پاکستان میں اس قسم ک...

آئرلینڈ یاترا۔۔۔17

آئرلینڈ کی پہلی مسجد 1950 کے عشرے میں مسلمانوں کی آئرلینڈ میں آمد شروع ہوئی تھی۔ اس سے پہلے چند ایک افراد شاید یہاں پہنچے ہوں لیکن ان کے متعلق کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں۔  1959 میں ڈبلن شہر میں ایک تنظیم کی بنیاد رکھی گئی جس کانام ڈبلن اسلامک سوسائٹی رکھا گیا تھا۔ بعد میں اس کا نام اسلامک فاونڈیشن آئرلینڈ رکھا گیا۔یہ تنظیم یہاں تعلیم پانے والے طلبہ کی تھی۔ 1971 میں اسے فرینڈلی سوسائٹی کے نام سے آئرلینڈ سرکار کے ساتھ رجسٹر کیا گیا۔ اس وقت تک مسلمانوں کی کوئی مستقل عبادت گاہ نہیں تھی۔ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھتے تھے اور عیدین کے لیے کرایے کا ہال کمرہ حاصل کیا کرتے تھے۔ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی تو اسلامک سوسائٹی کو مستقل عبادت گاہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ 1976 میں سعودی بادشاہ شاہ فیصل کے مالی تعاون سے 7 ہرینگٹن سٹریٹ ڈبلن 8 میں ایک عمارت خرید گئی اور اس میں مسجد کا قیام عمل میں لایاگیا۔  1981 میں منسٹری آف انڈومنٹ اینڈ اسلامک افیرز آف کویت نے اس مسجد کےلیے مستقل امام  کی تقرری کے لیے فنڈ مہیا کیا۔ 1983 میں اسلامک فاونڈیشن آئرلینڈ نے ابو ظہبی کے المکتوم فاؤنڈیشن کی مالی مدد...

آئرلینڈ یاترا۔۔۔15

فینکس پارک اور ڈبلن چڑیاگھر Phoenix Park and Dublin Zoo, Dublin   ڈبلن شہر  سے تین چار کلومیٹر مغرب کیطرف دریائے لیفی کے شمالی کنارے میں واقع  یہ پبلک پارک ڈبلن کا سب سےبڑا پارک ہے اور یورپ کے کسی شہر میں واقع پارکوں میں بھی رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے۔اس کا رقبہ 707 ہیکٹرز یعنی 1750 ایکڑ ہے۔  اس کے اردگرد چاردیواری کی لمبائی گیارہ کلومیٹر ہے۔   بارھویں صدی عیسوی میں نارمنوں نے جب ڈبلن پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کیسل نوک کے پہلے Baron ہگ ٹائرل نے  موجودہ پارک سمیت ایک وسیع زمین نائٹس  ہاسپٹلرز کو دیا تھا۔ انہوں نے کلمینہیم میں خانقاہ قائم کیا تھا جہاں اس وقت رائل ہسپتال قائم ہے۔ 1537 میں ہنری ہشتم کے ہاتھوں خانقاہوں کے خاتمے کے نتیجے میں نائٹس اس زمین سے محروم ہوگئے۔ اس کے آٹھ سال بعد یہ زمین ڈبلن میں شاہ چارلس دوئم کے نمائندے کے قبضے میں دی گئی۔ 1662 میں ڈیوک آف ارمنڈ نے اسے شکار گاہ بنا لیا اور اس کے اردگرد چاردیواری بنوائی۔ اس وقت سے یہ پارک چکارا ہرنوں کا مسکن ہے۔ دریائے لیفی کےجنوب میں واقع زمین پر 1680 میں انگریز فوجیوں کے لیے رائل آئرش ہسپتال تع...

آئرلینڈ یاترا۔۔۔14

آئرلینڈ یاترا۔۔۔14   ٹریم کیسل   Trim Castle   ڈبلن شہر سے 46 کلومیٹر شمال میں صوبہ لینسٹر کے وسط میں واقع کاؤنٹی میتھMeath میں یہ نارمن قلعہ تھا۔ یہ دریائے بوین کے جنوب میں ایک ابھری زمین کے اوپر بنایا گیا تھا۔ جس کی بنیاد  1172 میں ہگ ڈی لیسی  لارڈ آف میتھ نے رکھی تھی جب ہنری دوم نے میتھ میں ایک دوسرا انتظامی لارڈشپ قائم کیا اور ڈی لیسی کو لارڈ مقرر کیا تھا۔ 1224 میں  ڈی لیسی اور اس کے بیٹے والٹر کی نگرانی میں اس قلعے کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔ یہ سب سے بڑا نارمن قلعہ تھا۔ 1314 عیسوی تک یہ ڈی لیسی خاندان کے قبضے میں رہا۔ اس کے بعد یہ مورٹیمرز فیملی کو ملا۔ آخری مورٹیمر ایڈمنڈ مورٹیمر، ارل پنجم کی موت کے بعد یہ ایڈمنڈ کی بہن این کے بیٹے رچرڈ آف یارک کے قبضے میں چلا گیا۔رچرڈ آف یارک 1460 میں ویکفیلڈ کی لڑائی میں مارا گیا۔ 1461 میں رچرڈ کا بیٹا ایڈورڈ چہارم بادشاہ بنا تو اس نے اس قلعے کوجرمین لینھ سنار کے حوالے کرکے آئرلینڈ میں اپنا نمائیندہ مقرر کیا۔ اسے میتھ، ڈبلن اور گالوے کے اندر قائم  قلعہ جات کی آمدنی کا انچارج مقرر کیا گیا۔ سولہویں صدی میں...