Posts

موروثی سیاسی قیادت

 ملکِ عزیز میں جمہوریت کے نام پر جو وراثتی سیاسی نظام چل رہا ہے یہ تشویشناک حد تک جمہور دشمن  ہے۔ یہ ایک بدبودار گلا سڑاطرز حکومت ہے  جسے جمہوریت کا نام دینا لوگوں کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہمیں ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ان بانی تجربے کار سیاست دانوں پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے چند خاندانوں کی نا اہل اولاد کو اپنی پارٹیوں کے سربراہ کے طور پر قبول کیے ہوئے ہیں۔  جمہوریت میں سب سے پہلے سیاسی پارٹی جمہوری ہونی چاہیے جو مقررہ وقت پر صاف ستھرے چناو کے ذریعے پارٹی سربراہ اور معتمد خاص منتخب کرے اور جس کے کابینہ ممبران کو مشاورت اور فیصلوں کا مساوی حق حاصل ہو۔ پارٹی اور اس کے فیصلوں پر فرد واحد کی اجارہ داری نہ ہو۔  گاؤں کی سطح سے لے کر مرکز تک ہر سیاسی جماعت کی قیادت منتخب رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہو تب وہ جمہوری پارٹی کہلائے گی۔ بدقسمتی یا اپنے عوام کی جہالت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں کی سربراہی وراثت کے طور پر منتقل ہوتی رہی ہے۔ پارٹی کا سربراہ  پارٹی میں سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ سارے فیصلے ایک آدمی کرتا ہے چ...

زبان قوم کی پہچان

زبان قوم کی پہچان  جس وقت برصغیر پاک و ہند میں  آزادی کی تحریک چلی تھی اس کی بنیاد ہمارا دین اور اس کی روایات تھیں۔ ماضی میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا حکمرانوں اور اکثریتی قوم کے امتیازی سلوک نے ہمیں ایک علحیدہ قوم ہونے کا احساس دلایا تھا۔ اس احساس سے تحریک آزادی کا جنم ہوا۔  ہمارے بزرگوں کی تخلیق اردو زبان جس کی ترقی کا دور شروع ہو چکا تھا،  اس تحریک کی آواز بنی۔ مختصر یہ کہ برصغیر میں ہم ایک مسلمان قوم  کی حیثیت سے اپنا تشخص اور ازادی برقرار رکھنے کی جد و جہد کا آغاز اردو زبان کے  ذریعے سے کیا اور اپنی منزل پاکستان حاصل کیا۔ آج بھی یہی تین عناصر ہمارے تشخص اور تحفظ کی ضمانت ہیں۔ پاکستان قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اسلام ابدی مذہب ہے اور قیامت تک زندہ  اور اپنے زرین اصولوں پر قائم رہے گا اور اردو ہماری قومی یکجیتی کا ایک مضبوط وسیلہ اور قومی ترقی کی ضامن ہے کیونکہ اس کی نشونما میں مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ ہندو ، سکھ، انگریز علماء نے بھی بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے بابائے قوم نے اردو کو آج کے دن ملک کی قومی زبان قرار دیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ہم ...

افسوس صد افسوس!

 افسوس صد افسوس! میں ایک بزرگ شہری ہوں جسے پاکستان کی چشم دید تاریخ 1958 تا حال اچھی طرح یاد ہے۔ میں نے گہری نظر سے اپنے ملک کی حکمرانی کا مشاہدہ کیا ہے۔ سیاسی اور  فوجی حکومتوں کے ماتحت رہا اور بغور مشاہدہ کیا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ فوج کا کوئی قدم جان بوجھ کر ملکی مفاد کے خلاف رہا ہو بلکہ فوجی حکمرانوں (ماسوائے یحییٰ کے) کی نگرانی میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہا تھا۔ ملک کا وقار بلند رہا تھا۔ کرپشن نہیں تھی۔ انصاف تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب کی حکومت ہو یا جنرل پرویز مشرف کی، عوام خوشحال تھے۔ ملک کے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے فوجی حکمرانوں کے مرہون منت ہیں۔ جہاں تک فوجی حکومت کی قانونی حیثیت کا تعلق ہے تو آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ قانون اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ ملک کساد بازاری اور انارکی کا شکار ہو جائے۔ ملک کا امن و امان تباہ ہو جائے۔ بد عنوانی میں ترقی کر جائے۔ عوام افلاس میں مبتلاء ہو جائیں۔ عوام کا پجاس فیصد اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہ جائیں۔ ہمارے سیاست دانوں نے کب آئین کی پاسداری کی ہے؟ ملک کے سابق سپہ سالار، سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وفات کے بعد ان کے خلاف زہر افشانی...

آذربائیجانی...10

 ینار داغ میں زیادہ نہ ٹھہر سکے کیونکہ سردی ہڈیوں میں اتر گئی تھی۔ باہر نکلے اس امید پر کہ جلدی ٹیکسی مل جائے گی کیونکہ یہ جگہہ بر لب سڑک تھی۔ ہمیں سڑک کے کنارے انتظار کرنا پڑا جہاں بارش اور ہوا سے بچنے کے لیے کوئی بس اسٹاپ قسم کی چیز نہیں تھی۔ ایسے سیاحتی مقام پر چھوٹی موٹی انتظار گاہ ہونی چاہیے۔ ہمیں خالی گاڑی نہیں ملی۔ آخرکار ایک سواری والی ٹیکسی نے ہمیں دو کلومیٹر  آگے گاؤں تک کے لیے لفٹ دی۔ بوڑھا ڈرائیور تھا۔ میں اس کی اس ہمدردی پر بہت خوش ہوا۔ جب اس بستی پہنچے جہاں ہمیں گاڑی مل سکتی تھی تو اس نے ہمیں اتارتے ہی ایک دوسری ٹیکسی کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اسے کرایہ دینے کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کیا۔ پھر اس دوسری ٹیکسی کے ڈرائیور سے باکو تک کے لیے کرایہ کا پوچھا تو اس نے پچاس منت بتایا جو عام ریٹ سے پانج گنا زیادہ تھا۔ ہم نے کہا شکریہ ہم اپنے لیے ٹیکسی کا بندوبست خود کریں گے۔ جب ہم نے اس بوڑھے ڈرائیور کی پیشکش والی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کیا تو ظالم  بوڑھے نے اس دو کلومیٹر لفٹ کا کرایہ ہم سے پانج منت کھڑے کھڑے وصول کیا۔ تب پتہ چلا کہ آذربائیجانی ٹیکسی ڈرائیور...

چترال کی چلتی پھرتی تاریخ

Image
بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت حافظ سے نوازا ہے۔ قدیم زمانے کے لوگوں کا حافظہ مضبوط تھا۔ اس کی ایک وجہ لکھت پڑھت کا نہ ہونا تھی۔لوگوں کو اپنا شجرہ نسب، بزرگوں کے اقوال اور نصیحتیں سب کچھ اپنے حافظے میں محفوظ کرنا ہوتا تھا۔ جب تعلیم کا رواج ہوا تو حافظ پر بوجھ ہلکا ہو گیا۔ لوگ اپنی یادداشتیں کاغذ کے سپرد کرنے لگے۔ یہاں سے قوت حافظہ کی کمزوری کا آغاز ہوا۔ آج ہم جب کچھ پرانا واقعہ کسی کو سناتے ہیں تو وہ حیرانگی کا اظہار کرتا ہے کہ آپ نے یہ کیسے یاد رکھا حالانکہ اپنے ہم عصروں میں میں ہی سب سے کمزور حافظے کا مالک ہوں۔  میرے ہم عمر دوست احباب میں  مرحوم گل مراد خان حسرت اور بلبل ولی خان بلبل بلا کا حافظہ رکھتے تھے مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے اپنی یادداشت تحریری طور پر محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈاکٹر عنایت الله فیضی کو بھی خداوند تعالیٰ نے مضبوط حافظ کی نعمت سے نوازا ہے اور وہ اس میں محفوظ یاداشت ہمارے ساتھ خوب بانٹ رہے ہیں ۔ اسی طرح ایک اور صاحب اللہ کے فضل و کرم سے حیات ہیں۔ ان کو ہم چترال کی چلتی پھرتی تاریخ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ چترال کی یہ زندہ تاریخ...

آذربائجان ۔۔۔9

ینار داغ (جلنے والا پہاڑ)  آذری ترکی زبان میں ینار آگ کو کہتے ہیں اور داغ پہاڑ کو۔ ینار داغ کو شعلہ فشاں پہاڑ کہہ سکتے ہیں۔ ویسے آتش فشان پہاڑوں کے بارے میں ہم جانتے ہیں جو آگ کا سیلاب اگلتے ہیں اور اپنے اردگرد تباہی مچاتے ہیں۔ یہ آتش فشان ماحول دوست ہے اور آذربائیجانی کے لیے زر مبادلہ کماتا ہے۔۔ قدرت کا یہ عجوبہ ہر سیاح کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔اذربائیجان سیاحت کے لیے آنے والا ہر فرد اس جلنے والی پہاڑی کو دیکھنے کا  یقیناً شوق رکھے گا۔ جو لوگ مذہبی لحاظ سے آگ کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں ان کے لیے یہ زیارت گاہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آذربائیجانی کی سرزمین کو قدرتی تیل اور گیس سے مالامال کر رکھا ہے۔ ضلع اب گٹھشرون میں واقع مسلسل جلنے والی یہ آگ بعض محققین کے مطابق گزشتہ چار ہزار سالوں سے جل رہی ہے۔ یہ کبھی نہیں بجھی۔ بعض روایات کے مطابق 1950 کی دھائی میں کسی چرواہے کے سگریٹ پینے کے بعد اس کا جلتا ہوا ٹکڑا زمین پر پھینکنے کے عمل سے اس پہاڑی نے آگ پکڑی تھی۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں آذربائیجانی حکومت کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا اور اسے تاریخی اثاثے کے طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ چار پ...

نوغ سال/ سال غیریک

 گریگورئین کلینڈر کے مطابق نیا سال جنوری کی پہلی تاریخ منایا گیا۔ ایرانی کلینڈر کے مطابق 21 مارچ کو منایا جائے گا۔اسلامی جنتری کی پیروی کرنے کی راہ میں یوم عاشورہ حائل ہے۔ ہم اہل چترال کا اپنا یوم نو کا جشن ہوا کرتا تھا جس کا نام وادی مستوج اور یارخون میں سال غیریک تھا۔ غالباً بالائی چترال میں یہی نام رائج تھا اور یہ نئے سال کا پہلا دن ہوا کرتا تھا۔وادی لوٹکوہ میں اسے" پھاتک" کے نام سے مناتے ہیں البتہ ان کی تاریخ کے مطابق سال نو سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ حضرت پیر ناصر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کی چلہ کشی کی یادگار کے طور پر پھاتَک ہر سال یکم فروری کو منایا جاتا ہے۔ مجھے اس کا علم نہیں کہ تورکھو اور موڑکھو میں کب سے سال غیریک منانا چھوڑ دیا گیا اور کیوں؟ جہاں تک تحصیل مستوج میں اس قدیم تہوار کو چھوڑ دینے کی بات ہے تو یہ عرصہ کم و بیش پینتیس چالیس سال کا ہوگا کہ اس کی جگہہ نو روز نے لے لی ہے یا جان بوجھ کر اسے دلائی گئی۔ سالغیریک کی رسموں میں مقامی رہنمایانِ مذہب کو کافرانہ چیزیں نظر آگئیں لہذا اس تہوار کی بساط ہی لپیٹ دی گئی اگرچہ ان نامعقول قسم کی رسمیں پہلے ہی سے ترک ہو چکی تھیں۔ہم...