Posts

اردو کے صاحب دیوان فرنگی شعراء

اردو کے صاحب دیوان فرنگی شعراء ہمیں اپنے سابقہ فرنگی آقاؤں سے یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں نے ہمیں اپنا غلام بنایا اور ہماری تہذیب کا جنازہ نکال دیا۔ اپنی زبان اور کلچر ہم پر مسلط کیا۔ بر صغیر پاک و ہند سے جاتے جاتے  بھی اپنے پیچھے ایسے مقامی وارث چھوڑ گئے جو آج تک مغرب کی غلامی پر نازاں ہیں۔ آج بھی ان کی نقل اتارتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور ملک کے اندر ان کا نظام تعلیم و تربیت اور حکمرانی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کی درجنوں خرابیوں کے باوجود ان کی چند ایک خوبیاں بھی تھیں۔ جن میں معاشی،علمی اور اقتصادی ترقی میں ان کا کردار قابل قدر ہے۔ اردو اور ہندی زبان و ادب کے فروع میں انہوں بہت بڑا کام کیا ہے۔ زبان و ادب اور ادیبوں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں انہوں نے پیش رو کا کردار ادا کیا ہے۔ میں آج تک اس بات سے واقف نہیں تھا کہ فرنگیوں میں بھی کوئی اردو زبان کا شاعر گزرا ہے۔ خدا بھلا کرے رضا عابدی صاحب کا  کہ ان کی تصنیف " کتابیں اپنے آباء کی " اور محترم شیر علی برچہ ہنزائی کا کہ انہوں نے اس نایاب کتاب کو مجھے تحفہ کیا تھا۔ معروف صحافی، محقق اور ادیب رضا علی عابدی کے مطابق سو...

کھو ثقافت میں رشتے بنانے کا رواج

خونی اور رضاعت کے رشتوں کے علاوہ کھو ثقافت میں اور طرح کے رشتے بنانے کا ایک عام رواج تھا۔ ان میں ایک"ݰوشپ لاسیک" تھا۔ دو بندے یا گھرانے آپس میں رشتہ قائم کرنا چاہتے تو ایک آدمی دوسرے کو اپنا منہ بولا بیٹا بنانے کے لیے ایک رسم ادا کیا کرتا تھا۔ اس رسم کی ادائیگی کے لیے ایک چھوٹی سی تقریب میں باپ بننے والا بیٹا بننے والے کو ݰوشپ (چترال کی ایک مشہور روایتی خوراک) کا نوالہ اپنے ہاتھ سے کھلاتا تھا۔ اس کے بعد وہ ݰوشپ کا نوالا کھانے والا کھلانے والے کا ݯھیر ژاو  یعنی رضاعی بیٹے کا درجہ حاصل کرتا اور ان  تمام پسری فرائض کا پابند ہوتا تھا جو ایک سگا یا رضاعی بیٹا اپنے ماں باپ کے حقوق کے بارے میں پابند ہوتا ہے۔ اسی طرح سوائے وراثت میں حصہ کے اسے سگے بیٹے کے حقوق بھی حاصل ہوتے تھے جس میں تہواروں کے موقعوں پر "بݰ" (اس تہوار کی خاص خوراک میں حصہ بطور تحفہ) بھیجنا شامل تھا۔ یوں ان دو افراد کے علاوہ دو گھرانوں میں محرمانہ رشتہ قائم ہو جایا کرتا تھا اور دونوں گھرانوں بلکہ خاندانوں کے افراد اس رشتے کا احترام کرتے تھے۔آج کل یہ رسم متروک ہو چکی ہے۔ اسی طرح خدا ناخواستہ کبھی کسی مرد کو...

یارخون میں موبائل لائبریری

یارخون میں موبائل لائبریری آج کل لائبریری کا نام طاق نسیاں کے حوالے ہوا جا رہا یے۔ ایک وہ زمانہ تھا جب ہمیں کالج لائبریری میں اپنی ضرورت اور پسند کی کتابوں کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا جب دوسرے ساتھی واپس کریں گے تو ہم اپنے نام ایشو کروائیں گے۔ آج یہ حال ہے کہ کوئی بھولا بھٹکا کتاب خوان لائبریری کا رخ کرتا ہے۔ لائبریرین کتب بینوں کے انتظار میں بیٹھے بیزار ہو رہے ہیں۔ دنیا کے دانشور اس منفی رجحان کو دیکھ کر تشویش میں مبتلا ہیں کہ ان کی اولاد کا مستقبل علم و دانش سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ موبائل فون اور انٹر نٹ کی سہولت سے بآسانی دنیا کی بڑی بڑی لائبریریوں تک رسائی ممکن ہوگئی ہے تاہم یہ جدید سہولیات کسی طور بھی ہاتھ میں پکڑی کتاب کا متبادل نہیں ہو سکتیں نیز یہ الیکٹرانک ڈیوائسز انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت اور اخلاقیات پر بھی برے اثرات ڈال رہے ہیں۔ یہ غریب والدین پر زائد مالی بوجھ بھی ڈال رہے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ تک رسائی مفت میں ممکن  نہیں ہے۔  یہ بات ہمارے لیے خوش آ ئند ہے کہ وادی یارخون کے چند نوجوان طلبہ جو پاکستان کے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں، نے وقت کے اس ...

کھو سماج، رشتے اور موسیقی

چترال کی ثقافت کو کھو ثقافت کہا جاتا ہے۔ زبان اس کی کھوار ہے یعنی کھو لوگوں کی بولی/ زبان۔ لفظ کھو کا ماخذ آج تک پوری وضاحت کا محتاج ہے۔ میں  نے اپنے ایک مقالے میں جس کی تصنیف میرے ایک لائق شاگرد علی شیر نے میرا ساتھ مل کر کی تھی، لفظ "کھو" کی وجہ تسمیہ غاروں میں بسنے والے بتایا تھا۔ یہ مقالہ غالباََ 2009 میں اسلام میں منعقدہ ایک سیمینار میں پیش کیا گیا تھا۔ ہماری تحقیق کے مطابق لفظ"کھو" سنسکرت ہے جس کے معنی غار کے ہے۔ یہ بات مسلمہ ہے کہ زمانہ قدیم کے چترالی غاروں میں رہتے تھے کیونکہ وہ خانہ بدوش تھے۔ اسی نسبت سے اس علاقے کے باشندوں کو کھو کہا جانے لگا۔ چترال کی سرزمین پر مستقل رہائش رکھنے کے بعد بھی  چترال کے لوگ بیرونی حملہ آوروں اور ڈکیتیوں سے بچنے کے لیے پہاڑوں کے اندر تنگ گھاٹیوں اور غاروں میں پناہ گزین ہوتے تھے۔ اس لیے یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہ نام اہل چترال کی قدیم جائے رہائش یا جائے پناہ سے تعلق رکھتا ہے۔ چترال کی بیشتر آبادی نے شمال اور شمال مشرق سے اس وادی میں آکر رہائش اختیار کی تھی۔ ان علاقوں میں کھو نام نہیں ملتا ہے۔ کھو ثقافت کی چند خصوصیات ایسی ہیں جو...

طلبہ کے ساتھ بھونڈا مذاق

طلبہ کے ساتھ بھونڈا مذاق ؟ جب بانگ یارخون میں ہائیر سیکنڈری اسکول قائم ہوا تو عوام خوش تھے کہ ان کے بچوں کو انٹر تک مفت تعلیم حاصل ہوگی۔ علاقے کی پسماندگی اور دور افتادگی یہاں کے بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ رہی تھی۔ ان کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے راقم نے 2009 میں یہاں انٹر میڈیٹ کالج قائم کیا تھا۔ بعد میں اسے ڈگری کالج کا درجہ دیا گیا تھا۔ بہت ہی معمولی فیس بچوں سے لی جاتی تھی وہ بھی ان کے والدین ادا کرنے سے قاصر تھے۔  گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بانگ کو جب ترقی دی گئی تو ہمیں لگا کہ عوام کا بڑا مسلہ حل ہوگیا۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ سال روان کے دوران مجھے دو مرتبہ اسکول کی تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ پچھلی دفعہ یوم والدین کی تقریب تھی۔ اس کی روداد میں نے لکھی تھی۔ اس وقت تدریسی عملے کی کل منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 13 آسامیاں پر تھیں۔ 17 آسامیاں خالی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ تعلیمی سال کے شروع ہونے کے ساتھ خالی آسامیاں پر کی جائیں گی۔ آج پتہ چلا کہ مزید دو پوسٹیں اور خالی کر دی گئی ہیں۔ ایک مقامی سبجیکٹ اسپیشلسٹ نے یہاں سے اپنا تبادلہ کرایا ہ...

آہ بیٹا سمیع!

آہ بیٹا سمیع!  مانا کہ جانا ہے ہم سب کو ایک دن  منہ دکھانا ہے اپنے رب کو ایک دن  اتنی جلدی جانے کی ٹھانی کیوں؟  تنہائی میں فراق شب کو ایک دن  پیاروں کے سروں پر کوہ غم ٹوٹا   دوڑا جب آبی کرتب کو ایک دن   شوق پیراکی تھا یا دماغ کا جنون!  رکھا خاطر پھر بھی ادب کو ایک دن  چاندنی رات، سیر دریا کا شوق  لے ڈوبا ہے حسن عرب کو ایک دن  باد خزاں کا کوئی بھروسا نہیں ہے  مسل کر رکھ دے گل عجب کو ایک دن  تیری موت کا معمہ دل کو کھا رہا ہے  شاید منظور تھا مرے رب کو ایک دن      میرا پیارا سا معصوم ، درویش صفت ، تابعدار بھتیجا سمیع اللہ خان ابن رحمت ولی خان 14 جولائی سال رواں کو ہمیں داغ مفارقت دے گیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔  بہ ظاہر اس کی موت خود کشی سے واقع ہوئی لیکن حالات واقعات بتا رہے ہیں کہ اس نے اپنی جان قصداً نہیں لی بلکہ حادثہ کی وجہ سے وہ اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی ۔ وہ عرصہ تین سالوں سے نفسیاتی بیماری کا شکار رہا تھا تاہم ایک اعلے معالج اس کا علاج کر رہا تھا اور وہ 99 فیصد صحت مند ایک ن...

سحر خیزی

صبح سویرے اٹھنا ایک فرد کی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔ اسلام نے صبح کی عبادت کی جو اہمیت بیان کی ہے اسے اخروی فائدے کی تلقین قرار دیا جا سکتا ہے جس کی ہم مسلمانوں کو اتنی فکر نہیں کیونکہ ہمارا دعویٰ زبانی عملی نہیں ہے۔ ہم میں بہت کم لوگ اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں۔ آخرت پر ہم سب کا یقین ہوتا یعنی اقرار بالسان اور تصدیق بالقلب کا عملی مظاہرہ کرتے تو ہم کبائر گناہوں سے اجتناب کرتے۔ جھوٹ، غیبت، بہتان طرازی چوری، زنا ، لواطت ، سود خوری، رشوت، قتل ، ذخیرہ اندوزی ، دوسروں کا حق مارنا وغیرہ جیسے گناہوں سے بچتے کیونکہ قیامت کے دن ان کے بارے سوال جواب ہوگا اور سزائیں ہوں گی۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔جب ہم گناہوں کو شیر مادر سمجھ کر کرتے ہیں تو ہمارے ہاں عبادتوں کی کیا اہمیت  ہوسکتی ہے؟ اس لیے ہم سحر خیزی کی دنیاوی فوائد دیکھیں گے شاید مادی کشش ہمیں عبادت کی طرف بھی مائل کر سکے ۔ دنیا کے بڑے بڑے لوگ جنہوں نے کسی نہ کسی شعبے میں کمال حاصل کیا ہو صبح سویرے اٹھنے کی عادت رکھتے تھے۔ سورج سے پہلے بیدار ہونا اور اپنے مخصوص کاروبار زندگی کا آغاز کرنا کامیاب دن اور زندگی گزارنے کی طرف پہلا اور اہم تر...