Posts

آج سے کوئی چالیس سال پہلے میرا ایک عزیز سعودی عرب میں ملازمت کر رہا تھا۔ میں نے ایک خط ان سے پوچھا، " عرب میں شعائر اسلام پر عمل درآمد مثالی ہوگا؟" ہم سب کو یہ یقین رہا ہےکہ مکہ اور مدینہ اسلام کے پیدائشی شہر ہونے کے ناتے وہاں شعائر اسلام پر مسلمانوں کا عمل باقی اسلامی دنیا کے لیے مثالی ہی ہوگا۔ یہ عقیدہ تقریباً سارے مسلمان فرقوں کا مشترک ہے۔ جب میرے اس عزیز کا جواب آیا تو میں دنگ رہ گیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ " یہاں کے گلی کوچوں اوربازاروں میں اسلام نظر آتا ہے۔ شیخوں کے گھروں میں ناپید ہے۔ اسلام پر عمل پاکستان میں ہے" مجھے یقین نہیں آیا تھا اگرچہ وہ بندہ قوم سادات کے ایک راسخ العقیدہ سنی مذہبی گھرانے کا تھا اور سعودیہ میں اس کا قیام چھ سات سالوں سے تھا۔2016 میں اللہ نے مجھے خود موقع عنایت کیا کہ بندہ ناچیز اس کے گھر کا تواف کرسکے۔ عمرہ کے لیے گیا اور کوئی ایک ہفتہ گزار آیا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مسجد میں آزان ہوتے ہی بازاروں میں شٹر ڈاؤن ہوتا ہے۔ بتایا گیا کہ نماز کے وقت اگر کوئی دکان کھلی رہی تو وہ بندہ کوڑے کھائے گا بلکہ جیل بھی ہوگی۔ یہ بھی دیکھا کہ شاہراہوں کے ساتھ واقع ہر پٹرول پمپ کے ساتھ ایک مسجد قائم ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ ہر مسجد میں خواتین کے لیے باپردہ جائے نماز موجود ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ خواتین گھروں سے باہر بہت کم نظر آتی ہیں اور مکمل پردے میں ہوتی ہیں۔ یہ سارا کچھ باہر کی دنیا کا نقشہ تھا جو ہم دیکھ پائے لیکن شیوخ کے گھروں کے اندر جھانکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنے اس عزیز کی چالیس سال پرانی اطلاع کی تصدیق نہیں کر پایا۔غالباً 2017 میں ایک کتاب میرے ہاتھ لگی۔ کتاب کا نام "PRINCESS" اور لکھاری امریکن خاتون ، جین سیسوں تھی۔ یہ کتاب ایک سعودی شہزادی یعنی شاہ عبدالعزیز کی پوتی کی ایک طرح سے سوانح ہے جو اس کی زبانی اور اس کی دوست جین سیسون کے قلم سے لکھی گئی ہے البتہ کرداروں کی جانی اور سماجی حفاظت کے پیش نظر فرضی نام اپنائے گئے ہیں۔اس میں شہزادی جس نے پرنسس سلطانہ کے نام سے اپنی شناخت کرائی ہے شاہی خاندان کے محلوں کے اندر کی کہانیوں کی راوی ہے۔ بعد میں اسی مصنفہ کے قلم سے ‏Princess Sultana's daughters, ‏Desert Royal, ‏Princess Secrets to share, ‏Princess Sultana's Circles ‎جیسی کتابیں بھی پڑھنے کو ملیں البتہ شدید دکھ دیتی رہیں۔ کیونکہ کہانیاں بہت ہی دلخراش تھیں اور غیر انسانی کرداروں کےگرد گھومتی تھیں۔ ان کتابوں کے پڑھنے کے بعد سعودی عرب کے شاہی خاندان اور بااثر دولت مند شیخوں کی زندگی کا اصل نقشہ سامنے آیا۔ مجھے اپنے اس عزیز کی چالیس سال پرانی خبر کے تصدیق ہوگئی کہ واقع اسلام عرب کے گلی کوچوں اور بازاروں میں ہے گھروں کے اندر ندارد۔حال ہی میں شہزادی سلطانہ کی کہانیوں پر مبنی جین سیسون کی پانچویں کتاب ‏PRINCESS stepping out of the Shadows ‎ہاتھ لگی جس میں ایک ایسی کہانی لکھی گئی ہےجو ناقابل بیان ہے۔ اگرچہ ان جیسی شرمناک اور ننگ انسانیت کہانیوں کی ہمارے ملک میں بھی کمی نہیں ہے لیکن اسلام کے گھر میں ان کا وجود باعث دکھ ہے۔ ان کو بیان کرنا ضروری بھی ہے تاکہ عام مسلمان دھوکے میں نہ رہے کہ اسلام کا سچا نقشہ سعودیہ میں ہے تاہم اس سے مدافعتی لشکر کا حملہ ناقابل برداشت ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لیے فی الحال اس کہانی کو پس پشت ڈالتے ہوئے دوسری کہانی کا مختصر تذکرہ مناسب ہے جو ان میں کسی کتاب میں مرقوم ہےڈاکٹر مینا، شہزادی سلطانہ کی گہری سہیلی ہے اور عرب شہری ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کی چوتھی بیٹی کے طور پر دنیا میں آئی تھی۔ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے باپ نے اسکی ماں کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ اس نے چوتھی دفعہ بھی بچی کو جنم دیا تھا۔ پھر اس شقی القلب آدمزاد نے اس نو مولد بچی کو اٹھائے ریگستان کی طرف چل پڑا تھا تاکہ اس معصوم کو زندہ زمین میں گھاڑ دے۔ اس نے بچی کو اٹھائے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نو مولد بچی جو دفنانے کےبعدباویوں کو بھی ریگزار میں دفن کرےگا۔ جب وہ بچی کو لے کر گھرسےنکلا تو اس کے بڑے بھائی کو خبر ہوئی اور اس نے اس کا راستہ روک لیا اور بچی کو اس سے چھین کر اس کی ماں کے حوالے کیا۔ تائی نے معصوم بچیوں کی جانیں تو بچا لیں لیکن ظالم بھائی کو اپنی مظلوم بیوی کو طلاق دینے اور بچیوں کے ساتھ گھر سے نکالنے سے نہیں روک پایا۔ اس جابر انسان نے مطلقہ عورت کو بچیوں سمیت اس میکے پہنچا کر چھوڑ گیا اور پھر کبھی موڑ کرنہیں دیکھا۔ یہاں ماں باپ اس کو گھر میں داخل ہونے نہیں دیا اور دروازے پر کھڑی ماں اپنے ہی لخت جگر کو اس کے پیدائشی گھر میں پناہ لینے سے روک لیا۔ جائیں تو کہاں جائیں؟ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ اس عورت کی سب سے بڑی بچی اپنی نانی کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ جاتی ہے اور کسی طرح نیچے سے گھر میں گھسنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کہانی نویس کہتی ہے کہ شاید اس بچی کو قدیم عربی ضرب المثل یاد ہو، " اونٹ کی ناک خیمے میں داخل ہو جائے تو سمجھ لو کہ اونٹ بھی خیمے میں داخل ہوگیا"۔ بچی نے جب اپنی نانی کی توجہ ہٹا دی تو اس کی ماں بھی دوسری بچیوں کے ساتھ گھر میں گھسنے میں کامیاب ہوگئی۔ ماں باپ ان کو پھر باہر نہ نکال پائے۔ کچھ عرصہ فاقہ کرنےکےبعد والدین کے دلوں میں اللہ نے رحم ڈالدیا اور ان کو روٹی بھی ملنے لگی۔ بچیوں کی ماں نےکہیں ملازمت ڈھونڈ لی اور اپنے بچوں کو پالنے لگی۔ آگے جاکر بوڑھے ماں باپ کا بھی سہارا بن گئی۔اس کی سب سے چھوٹی بچی بڑی ذہین نکلی۔ سکول میں اچھی پوزیشن لیتی گئی یہاں تک کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کےلئے وظیفہ حاصل کرلیا۔ جس بچی کو اس کا شقی القلب باپ جس ریگستان زندہ دفن کرنے والا تھا اس نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرکے اسی ریگستان کے باسیوں کی خدمت کرنے لگی۔ اپنی زندگی کے تلخ تجربات کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر مینا نے عرب کی مظلوم بچیوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے رضاکارانہ کام کرنا شروع کیا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ غربت زدہ اور مظلوم بچیوں کی تعلیم و تحفظ پر خرچ کرنے لگی۔ بچیوں کی تعلیم سے متعلق ایک کانفرنس کے دوران شہزادی سلطانہ کی اس سے ملاقات ہوگئی تاہم ڈاکٹر مینا شاہی خاندان والوں سے گریزاں رہی۔ لیکن شہزادی سلطانہ کو ان سے انس پیدا ہوگئی تھی۔ آہستہ آہستہ ان میں گہری دوستی ہوگئی کیونکہ دونوں کے خیالات اور ان کا میشن مشترک تھا۔ آج یہ دو عظیم خواتین سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے مالی اور اخلاقی مدد دینے میں ہراول دستے کا کردار بڑی راز داری کیساتھ ادا رہی ہیں۔ انہوں نے ہم خیال خواتین کا بڑا حلقہ پیدا کیا ہے اور پر امید ہیں کہ وہ دن جلد آئے گا کہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک میں جہاں عورتیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، مرد کے ظالمانہ تسلط سے آزاد انسانی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گی۔

آئرلینڈ یاترا۔۔۔27

Image
آئرلینڈ یاترا۔۔۔27 وادئ ایووکا میں دوسری مشہور اور قابل دید جگہہ Avoca Mill ہے جہاں خالص اونی کپڑا بنا جاتا ہے. یہ کارخانہ 1723 میں دریائے ایووکا کےکنارے ایک کوآپریٹیو مل کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ وادی کے زمیندار/بھیڑوں کے گلہ بان  یہاں ملا کرتے، اپنی اون دھنتے، دھاگہ بناتےاور کھڈی پر کپڑا تیار کیا کرتے تھے۔ ان کا بنایاہوا دھاگہ بے رنگ اور کھردرا ہوتا تھا جس سے وہ دریاں اور کمبل تیار کرتے تھے۔  اٹھارویں صدی کے دوران یہ وادی ایک مصروف اور متحرک کمیونٹی بن گئی اور تانبا، گندھک، سیسہ اور سونے کی کان کنی میں جت گئی۔ یہ کارخانہ گاؤں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ یہاں کان کنوں اور ان کے خاندانوں کے افراد کے لیے کپڑا تیار ہونے لگا اور خوراک کے لیے آناج بھی پسنے لگا۔  اٹھارویں صدی کے وسط میں نکولاس ڈون نام کے کاروباری شخص نے اس کارخانے کا چارج سنبھالا اور اسے ایوکا وولن مل کے نام سے ترقی دی۔ وہ فوج اور رتھڈرم اور شکیلہ یونئینز کے لیے کمبل بنانے لگا۔ اس وقت تک پودوں اور جھاڑیوں سے اون رنگنے کا رواج ہوچکا تھا۔ اس نے سفید، سلیٹی اور سرخ رنگ کا اون...

آئرلینڈ یاترا 26

Image
آئرلینڈ یاترا 26 The Vale of Avoca and Morial Park سینٹ کیوین مونسٹری دیکھنے اور  گلینڈالو ہوٹل میں کافی پینے میں کوئی تین گھنٹے گزارنے کے بعد ہمارا قافلہ چل پڑا۔ ہماری اگلی مختصر ٹھہرنے کی منزل ایووکا وادی  کا تھامس مور میمورئیل پارک تھا جو گلینڈالو کا ہی زیریں حصہ ہے۔ اس کی شہرت وادی کے اطراف میں سندر، شاہ بلوط کے گھنے جنگلوں اور انواع و اقسام کے جنگلی پرندوں کی جائے سکونت ہونے کی وجہ سے بھی  ہے۔ تاہم  اس سے بڑ کر اس وادی کی قدر وقیمت تھامس مور کی اس نظم کی طفیل ہے جس کی تصویر نیچے دی گئی ہے ۔ قارئین خود پڑھیں اور لطف اٹھائیں۔   تھامس مور آئرلینڈ کے قومی شاعر ہیں۔ اسے بحیثیت گلوکار اور ناول نگار بھی بڑی شہرت حاصل تھی۔ 1779 میں ڈبلن میں پیدا ہوئے۔ ٹرینیٹی کالج ڈبلن سے گریجویشن کیا۔ شروع میں اداکاری میں دلچسپی تھی۔ کئی ڈراموں اور فلموں میں کام کیا۔ موسیقی کے ساتھ بھی شعف رکھتا تھا۔ گلوکار بھی تھا۔ لیکن شہرت غزل گو شاعر اور ناول نویس کی حیثیت سے پائی. خاص کرکے  The Ministrel Boy and the Last Rose of Summer ان کی شہرت کوچارچند لگادی۔ ا...

آئرلینڈ یاترا 25

ہم نے جنوری کے مہینے میں اس امید کے ساتھ زیادہ گھومنے پھیرنے سے گریز کیا تھا کہ فروری میں موسم گرم پڑ جائے گا اور ہم خوب چکر ماریں گے لیکن ہماری امید بر نہیں لائی۔ فروری جنوری سے کئی گنا سرد ثابت ہوا۔ بارش اور تیز ہواؤں نے زیادہ دنوں میں ہمیں گھر کے اندر مقید رکھا۔ جب باہر نکلے بھی تو لال چہروں اور بہتی ناک لے کر واپس آئے۔  ڈبلن کی ایک مشہور سیرگاہ ابھی تک ہم سے رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر سرنگ اور کریم ہمیں ترغیب دیتے رہے کہ وکلو Wicklow دیکھے بغیر واپس جائیں گے تو پچھتاوا ہوگا۔ آخر ہم نے یکم مارچ کو وکلو کی سیر کو نکلے۔ وکلو ڈبلن کے جنوب مشرق میں ایک خوبصورت کاؤنٹی ہے جہاں بہت سارے سیاحتی مقامات ہیں۔ ہماری آج کی سیر پہاڑی وادیوں کی تھی۔ ان سیر گاہوں کی سیر باقاعدہ پروگرام کے مطابق کرنا تھی۔ ایک دن پہلے آن لائن سیٹ بکنگ کرنے کے بعد ٹور کمپنی ڈربی او گل Darby O Gill کی کوچ میں دوسرے سیاحوں کے ساتھ ڈرائیور کم گائڈ کی معیت میں ہم صبح سوا دس بجے ڈبلن شہر کے او کونیل بس سٹاپ پر بس میں سوار ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہندوستانی، افریقائی، یوروپی، کوریائی اور امریکن سیاحوں نے کوچ میں رنگ و نسل کی گوناگونی کی...

آئرلینڈ یاترا 24

ہم نے جنوری کے مہینے میں اس امید کے ساتھ زیادہ گھومنے پھیرنے سے گریز کیا تھا کہ فروری میں موسم گرم پڑ جائے گا اور ہم خوب چکر ماریں گے لیکن ہماری امید بر نہیں لائی۔ فروری جنوری سے کئی گنا سرد ثابت ہوا۔ بارش اور تیز ہواؤں نے زیادہ دنوں میں ہمیں گھر کے اندر مقید رکھا۔ جب باہر نکلے بھی تو لال چہروں اور بہتی ناک لے کر واپس آئے۔  ڈبلن کی ایک مشہور سیرگاہ ابھی تک ہم سے رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر سرنگ اور کریم ہمیں ترغیب دیتے رہے کہ وکلو Wicklow دیکھے بغیر واپس جائیں گے تو پچھتاوا ہوگا۔ آخر ہم نے یکم مارچ کو وکلو کی سیر کو نکلے۔ وکلو ڈبلن کے جنوب مشرق میں ایک خوبصورت کاؤنٹی ہے جہاں بہت سارے سیاحتی مقامات ہیں۔ ہماری آج کی سیر پہاڑی وادیوں کی تھی۔ ان سیر گاہوں کی سیر باقاعدہ پروگرام کے مطابق کرنا تھی۔ ایک دن پہلے آن لائن سیٹ بکنگ کرنے کے بعد ٹور کمپنی ڈربی او گل Darby O Gill کی کوچ میں دوسرے سیاحوں کے ساتھ ڈرائیور کم گائڈ کی معیت میں ہم صبح سوا دس بجے ڈبلن شہر کے او کونیل بس سٹاپ پر بس میں سوار ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہندوستانی، افریقائی، یوروپی، کوریائی اور امریکن سیاحوں نے کوچ میں رنگ و نسل کی گوناگونی کی...

آئرلینڈ یاترا۔۔۔22

 واٹر فورڈ شہر کے وائکنگ ٹرائنگل اندر قائم  کیتھڈرل آف دی ہولی ٹرینیٹی کرائسٹ چرچ واٹرفورڈ بھی ایک تاریخی یادگار ہے۔ سب سے پہلے گیارھویں صدی میں یہاں چرچ  تعمیر ہوا تھا۔ 1170  میں پمبروک کے دوسرے ارل ڈی کلیر ( سٹرانگ بو ) اور بادشاہ لینسٹر کی بیٹی  ایفا کی شادی کی تقریب یہیں پر منعقد ہوئی تھی۔ 1210 میں پرانی عمارت کی جگہ گوتھک کیتھولک ڈیزائین کا کلیسا بنا۔ انگلستان کی اصلاح مذہب کی مہم کے دوران یہ کیتھڈرل بھی ان کا نشانہ بنا تھا۔ کرمویل کی فوج نےاس کی بڑی بے احترامی کی تھی۔موجودہ عمارت 1773 میں شروع ہوکر  1779 میں تکمیل کو پہنچی تھی۔ اس کا آرکیٹیکٹ جان رابرٹسن تھا۔ پرانی عمارت کو گراتے وقت بہت سے نوادرات برآمد ہوئے تھے جو میوزیم آف ٹریژرز واٹرفورڈ اور نیشنل میوزیم آف آئرلینڈ میں محفوظ ہیں۔ اس کیتھڈرل کو آثار قدیمہ کے مؤرخ Mark Girauod نےآئرلینڈ میں اٹھارہویں صدی کی بہترین مسیحی عمارت قرار دیا ہے۔ اس کیتھڈرل کے قریب ہی میڈیول میوزیم کی عمارت ہے۔ عمارت نئی ہے البتہ اسکے تہ خانے میں پرانے شہر کی دیوار اور ٹاور کا ایک حصہ محفوظ ہے۔ میوزیم کے اندر  وسطی دور...

آئرلینڈ یاترا۔۔۔21

آئرلینڈ یاترا ۔۔۔21  آئرلینڈ کا قدیم ترین شہر آئرلینڈ کے جنوب مشرق میں واقع صوبہ منسٹر Munster کے شہر واٹر فورڈ Waterford کو آئرلینڈ کا سب سے قدیم شہر ہونے کا فخر حاصل ہے۔ اسے وائکنگ بادشاہ Ottir Karla  نے 914 ع میں آباد کیا تھا۔ ویسے وائکنگز نے 853 عیسوی میں اس علاقے پر قبضہ کرکے یہاں رہائش اختیار کر رکھی تھیں۔ بحیثیت انسانی بستی اس کی عمر دس ہزار سال سے زیادہ بتائی جاتی یے۔ اب تک شمالی آئرلینڈ کے ماؤنٹ سینڈل کو قدیم ترین انسانی بستی کہا جاتا رہا ہے۔ اب واٹر فورڈ سے برآمد آثار قدیمہ کا مطالعہ اس سابقہ مفروضے کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ بہر حال مزید تلاش و تحقیق جاری ہے۔  کھنڈرات دیکھنے کا شوق مجھے واٹر فورڈ کی طرف گھسیٹا۔ دخترم ڈاکٹر زبیدہ سرنگ میرے ساتھ میری رہنمائی کے لیے چل پڑی۔ ڈبلن سے بذریعہ بس دو گھنٹے لگے۔ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ انتہائی آرام دہ ہے۔ گاڑی کے اندر رفع حاجات کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مسافر کو کسی قسم کا الجھن نہیں ہوتا۔ اگرچہ میرے دوست عطاء الرحمن رومی سوروھتیک نے پیشکش کی تھی کہ وہ یہاں اپنے دوستوں سے کہہ کر گاڑی کا بندوبست کرے گا۔ لیکن میں نے منع کیا ک...