Posts
آئرلینڈ یاترا۔۔۔27
- Get link
- X
- Other Apps
آئرلینڈ یاترا۔۔۔27 وادئ ایووکا میں دوسری مشہور اور قابل دید جگہہ Avoca Mill ہے جہاں خالص اونی کپڑا بنا جاتا ہے. یہ کارخانہ 1723 میں دریائے ایووکا کےکنارے ایک کوآپریٹیو مل کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ وادی کے زمیندار/بھیڑوں کے گلہ بان یہاں ملا کرتے، اپنی اون دھنتے، دھاگہ بناتےاور کھڈی پر کپڑا تیار کیا کرتے تھے۔ ان کا بنایاہوا دھاگہ بے رنگ اور کھردرا ہوتا تھا جس سے وہ دریاں اور کمبل تیار کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی کے دوران یہ وادی ایک مصروف اور متحرک کمیونٹی بن گئی اور تانبا، گندھک، سیسہ اور سونے کی کان کنی میں جت گئی۔ یہ کارخانہ گاؤں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ یہاں کان کنوں اور ان کے خاندانوں کے افراد کے لیے کپڑا تیار ہونے لگا اور خوراک کے لیے آناج بھی پسنے لگا۔ اٹھارویں صدی کے وسط میں نکولاس ڈون نام کے کاروباری شخص نے اس کارخانے کا چارج سنبھالا اور اسے ایوکا وولن مل کے نام سے ترقی دی۔ وہ فوج اور رتھڈرم اور شکیلہ یونئینز کے لیے کمبل بنانے لگا۔ اس وقت تک پودوں اور جھاڑیوں سے اون رنگنے کا رواج ہوچکا تھا۔ اس نے سفید، سلیٹی اور سرخ رنگ کا اون...
آئرلینڈ یاترا 26
- Get link
- X
- Other Apps
آئرلینڈ یاترا 26 The Vale of Avoca and Morial Park سینٹ کیوین مونسٹری دیکھنے اور گلینڈالو ہوٹل میں کافی پینے میں کوئی تین گھنٹے گزارنے کے بعد ہمارا قافلہ چل پڑا۔ ہماری اگلی مختصر ٹھہرنے کی منزل ایووکا وادی کا تھامس مور میمورئیل پارک تھا جو گلینڈالو کا ہی زیریں حصہ ہے۔ اس کی شہرت وادی کے اطراف میں سندر، شاہ بلوط کے گھنے جنگلوں اور انواع و اقسام کے جنگلی پرندوں کی جائے سکونت ہونے کی وجہ سے بھی ہے۔ تاہم اس سے بڑ کر اس وادی کی قدر وقیمت تھامس مور کی اس نظم کی طفیل ہے جس کی تصویر نیچے دی گئی ہے ۔ قارئین خود پڑھیں اور لطف اٹھائیں۔ تھامس مور آئرلینڈ کے قومی شاعر ہیں۔ اسے بحیثیت گلوکار اور ناول نگار بھی بڑی شہرت حاصل تھی۔ 1779 میں ڈبلن میں پیدا ہوئے۔ ٹرینیٹی کالج ڈبلن سے گریجویشن کیا۔ شروع میں اداکاری میں دلچسپی تھی۔ کئی ڈراموں اور فلموں میں کام کیا۔ موسیقی کے ساتھ بھی شعف رکھتا تھا۔ گلوکار بھی تھا۔ لیکن شہرت غزل گو شاعر اور ناول نویس کی حیثیت سے پائی. خاص کرکے The Ministrel Boy and the Last Rose of Summer ان کی شہرت کوچارچند لگادی۔ ا...
آئرلینڈ یاترا 25
- Get link
- X
- Other Apps
ہم نے جنوری کے مہینے میں اس امید کے ساتھ زیادہ گھومنے پھیرنے سے گریز کیا تھا کہ فروری میں موسم گرم پڑ جائے گا اور ہم خوب چکر ماریں گے لیکن ہماری امید بر نہیں لائی۔ فروری جنوری سے کئی گنا سرد ثابت ہوا۔ بارش اور تیز ہواؤں نے زیادہ دنوں میں ہمیں گھر کے اندر مقید رکھا۔ جب باہر نکلے بھی تو لال چہروں اور بہتی ناک لے کر واپس آئے۔ ڈبلن کی ایک مشہور سیرگاہ ابھی تک ہم سے رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر سرنگ اور کریم ہمیں ترغیب دیتے رہے کہ وکلو Wicklow دیکھے بغیر واپس جائیں گے تو پچھتاوا ہوگا۔ آخر ہم نے یکم مارچ کو وکلو کی سیر کو نکلے۔ وکلو ڈبلن کے جنوب مشرق میں ایک خوبصورت کاؤنٹی ہے جہاں بہت سارے سیاحتی مقامات ہیں۔ ہماری آج کی سیر پہاڑی وادیوں کی تھی۔ ان سیر گاہوں کی سیر باقاعدہ پروگرام کے مطابق کرنا تھی۔ ایک دن پہلے آن لائن سیٹ بکنگ کرنے کے بعد ٹور کمپنی ڈربی او گل Darby O Gill کی کوچ میں دوسرے سیاحوں کے ساتھ ڈرائیور کم گائڈ کی معیت میں ہم صبح سوا دس بجے ڈبلن شہر کے او کونیل بس سٹاپ پر بس میں سوار ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہندوستانی، افریقائی، یوروپی، کوریائی اور امریکن سیاحوں نے کوچ میں رنگ و نسل کی گوناگونی کی...
آئرلینڈ یاترا 24
- Get link
- X
- Other Apps
ہم نے جنوری کے مہینے میں اس امید کے ساتھ زیادہ گھومنے پھیرنے سے گریز کیا تھا کہ فروری میں موسم گرم پڑ جائے گا اور ہم خوب چکر ماریں گے لیکن ہماری امید بر نہیں لائی۔ فروری جنوری سے کئی گنا سرد ثابت ہوا۔ بارش اور تیز ہواؤں نے زیادہ دنوں میں ہمیں گھر کے اندر مقید رکھا۔ جب باہر نکلے بھی تو لال چہروں اور بہتی ناک لے کر واپس آئے۔ ڈبلن کی ایک مشہور سیرگاہ ابھی تک ہم سے رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر سرنگ اور کریم ہمیں ترغیب دیتے رہے کہ وکلو Wicklow دیکھے بغیر واپس جائیں گے تو پچھتاوا ہوگا۔ آخر ہم نے یکم مارچ کو وکلو کی سیر کو نکلے۔ وکلو ڈبلن کے جنوب مشرق میں ایک خوبصورت کاؤنٹی ہے جہاں بہت سارے سیاحتی مقامات ہیں۔ ہماری آج کی سیر پہاڑی وادیوں کی تھی۔ ان سیر گاہوں کی سیر باقاعدہ پروگرام کے مطابق کرنا تھی۔ ایک دن پہلے آن لائن سیٹ بکنگ کرنے کے بعد ٹور کمپنی ڈربی او گل Darby O Gill کی کوچ میں دوسرے سیاحوں کے ساتھ ڈرائیور کم گائڈ کی معیت میں ہم صبح سوا دس بجے ڈبلن شہر کے او کونیل بس سٹاپ پر بس میں سوار ہوئے۔ ہمارے ساتھ ہندوستانی، افریقائی، یوروپی، کوریائی اور امریکن سیاحوں نے کوچ میں رنگ و نسل کی گوناگونی کی...
آئرلینڈ یاترا۔۔۔22
- Get link
- X
- Other Apps
واٹر فورڈ شہر کے وائکنگ ٹرائنگل اندر قائم کیتھڈرل آف دی ہولی ٹرینیٹی کرائسٹ چرچ واٹرفورڈ بھی ایک تاریخی یادگار ہے۔ سب سے پہلے گیارھویں صدی میں یہاں چرچ تعمیر ہوا تھا۔ 1170 میں پمبروک کے دوسرے ارل ڈی کلیر ( سٹرانگ بو ) اور بادشاہ لینسٹر کی بیٹی ایفا کی شادی کی تقریب یہیں پر منعقد ہوئی تھی۔ 1210 میں پرانی عمارت کی جگہ گوتھک کیتھولک ڈیزائین کا کلیسا بنا۔ انگلستان کی اصلاح مذہب کی مہم کے دوران یہ کیتھڈرل بھی ان کا نشانہ بنا تھا۔ کرمویل کی فوج نےاس کی بڑی بے احترامی کی تھی۔موجودہ عمارت 1773 میں شروع ہوکر 1779 میں تکمیل کو پہنچی تھی۔ اس کا آرکیٹیکٹ جان رابرٹسن تھا۔ پرانی عمارت کو گراتے وقت بہت سے نوادرات برآمد ہوئے تھے جو میوزیم آف ٹریژرز واٹرفورڈ اور نیشنل میوزیم آف آئرلینڈ میں محفوظ ہیں۔ اس کیتھڈرل کو آثار قدیمہ کے مؤرخ Mark Girauod نےآئرلینڈ میں اٹھارہویں صدی کی بہترین مسیحی عمارت قرار دیا ہے۔ اس کیتھڈرل کے قریب ہی میڈیول میوزیم کی عمارت ہے۔ عمارت نئی ہے البتہ اسکے تہ خانے میں پرانے شہر کی دیوار اور ٹاور کا ایک حصہ محفوظ ہے۔ میوزیم کے اندر وسطی دور...
آئرلینڈ یاترا۔۔۔21
- Get link
- X
- Other Apps
آئرلینڈ یاترا ۔۔۔21 آئرلینڈ کا قدیم ترین شہر آئرلینڈ کے جنوب مشرق میں واقع صوبہ منسٹر Munster کے شہر واٹر فورڈ Waterford کو آئرلینڈ کا سب سے قدیم شہر ہونے کا فخر حاصل ہے۔ اسے وائکنگ بادشاہ Ottir Karla نے 914 ع میں آباد کیا تھا۔ ویسے وائکنگز نے 853 عیسوی میں اس علاقے پر قبضہ کرکے یہاں رہائش اختیار کر رکھی تھیں۔ بحیثیت انسانی بستی اس کی عمر دس ہزار سال سے زیادہ بتائی جاتی یے۔ اب تک شمالی آئرلینڈ کے ماؤنٹ سینڈل کو قدیم ترین انسانی بستی کہا جاتا رہا ہے۔ اب واٹر فورڈ سے برآمد آثار قدیمہ کا مطالعہ اس سابقہ مفروضے کو غلط ثابت کر رہا ہے۔ بہر حال مزید تلاش و تحقیق جاری ہے۔ کھنڈرات دیکھنے کا شوق مجھے واٹر فورڈ کی طرف گھسیٹا۔ دخترم ڈاکٹر زبیدہ سرنگ میرے ساتھ میری رہنمائی کے لیے چل پڑی۔ ڈبلن سے بذریعہ بس دو گھنٹے لگے۔ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ انتہائی آرام دہ ہے۔ گاڑی کے اندر رفع حاجات کا بندوبست بھی ہوتا ہے۔ اس لیے مسافر کو کسی قسم کا الجھن نہیں ہوتا۔ اگرچہ میرے دوست عطاء الرحمن رومی سوروھتیک نے پیشکش کی تھی کہ وہ یہاں اپنے دوستوں سے کہہ کر گاڑی کا بندوبست کرے گا۔ لیکن میں نے منع کیا ک...