گفتگوے لاحاصل یہ بات ہم اپنے بزرگوں سے سنی تھی کہ بحث کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ یہ گفتگو لاحاصل ہےاس لیے اس میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ چونکہ وہ زمانہ لاعلمی یا کم علمی کا تھا اس لیے ہم نے سوچا کہ آنپڑھ لوگوں کی بحث میں اختلاف شدت اختیار کرسکتا ہے۔ ممکن ہے اس وجہ سے بحث کو اس وقت کےعقلمندوں نے باعث شر قرار دیا۔ آج کا زمانہ علم و فضل کا ہے۔ علم والے مہذبانہ بحث کریں گے اور اپنے علاوہ دوسروں کے معلومات میں اضافہ کریں گے نہ کہ "میری دلیل ہی درست ہے" پر اڑے رہیں گے ۔ لہذا بحث کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ اس خوشفہمی میں ہم نے بھی کئی ایک بحثوں میں جاندار حصہ لیا البتہ انجام وہی ہوا جو ہمارے "آنپڑھ" بزرگوں نے کہا تھا۔ ان مباحثوں کے بعد ہم نے اپنے دونوں کان پکڑ کر توبہ کرلی کہ آٴیندہ کسی قسم کی بحث کا حصہ نہیں بنیں گے۔ فیسبک جیسا ذریعیہ اظہار ہر وقت ہاتھ میں ہو تو توبہ شکنی ہو ہی جاتی ہے البتہ اپنی رائے دینے کے بعد چپ رہتا ہوں۔ یہ کاریگر چال ہے۔ اپنے دل کی بات بھی کہدی اور حزب مخالف سے الجھَنے کے عذاب سے بھی بچ گئے۔ مخالف بھائی زیادہ سے زیادہ یہ ک...
Posts
اسیرو زندگی۔۔۔ ۱۱
- Get link
- X
- Other Apps
ومداریو زمانہ یزگیلیو لالو سار ہتے اشناری گانی جیپو دیتی جو ݯھونی اچی اسکولہ تورتم۔ استاذ مہ انتظارا استائے۔ بو خوشان ہوئے۔ ہے سو اوا دی دورتے مہمیز ارتم۔ کیہ علاج پلاج کوری دورا توری دادو اوچے ننوتے مݰقری پھریتم کہ " اوا پاس ہوتم" خاص کوری دادوتے ہیہ جم خبرو دیک بو ضروری اوشوئے کوریکو کہ غیرت بیگ استاذ مہ تتو نسہ متےنالائق رے مہ بے عزت کوری استئے۔ ہتو لو غلط نیسی اوشوئے۔ مگم اوا تان دی حیران بتی استم کہ اوا کیچہ پاس ہوتم ۔ بہرحال پاس ہوتم۔ تتوتے ہتے وم گانیرو اشناریو لوو دی پھریتم۔ مہ ننو چے تت بو خوشان ہونی۔ مہ غیچ غیچہ بھ کوری شباشی برانی۔ چھوچی ریپھی اسکولوتے بکار پروشٹی دادوسار جو روپیہ اوشٹ آنہ گانی جیپو پھریتم، اسکولوتے راہی ہوتم۔ ریزگیلیو دکاندار لالو دور رہا کافی دودیری اوشوئے وا اسکولو حاضریو وخت دی ݰویے اوشوئے۔ اسکولارچھٹی بتی اچی بوغاوا تو ومو چھینیم رے سیدھا اسکولہ تورتم۔ اسکولو شرانہ استادو روئیتو پھریتم ۔ سلامو سو تن متے ریکی " لالو جاو دکاندارو روپیان الاوا؟" اوا ہوستو پیرانو جیپھو ٹیکہ دیتی ریتم، " دی لہ استاد...
زلفتراش کی تلاش
- Get link
- X
- Other Apps
میرے گاؤں میں ایک برخوردار نے ذلفتراش کی دکان کھولی۔یہ برخوردار چترال سکاؤٹس میں اس پیشے سے منسلک رہا تھا۔ پنشن لینے کے بعد سوچا کہ اپنے گاؤں میں اس پیشے کو جاری رکھے۔ جب میں نے اس باربرشاب کے بارے سنا تو سب سے زیادہ میں خوش ہوا کیونکہ ہنرمند کی ضرورت کا احساس ہم جیسے پنشن یافتہ سن رسیدہ افراد کو زیادہ ہوتا ہے۔ جو اپنے گاؤں سے باہر قدم رکھنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ یا تو زندگی کا بڑا حصہ گاؤں سے باہر گزارنے کے بعد باقی حصہ گاؤں ہی میں گزارنے کی آرزوہوتی ہے یا شاید بڑھاپے کی وجہ سے سفر سے پہلو تہی کا بہانہ ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ وجہ جو بھی ہو میں اپنے گاوں میں انسانی ضرورت کی ایک اہم خدمت کے میسر آنے پر بہت ہی خوش تھا۔ پھر ایک دن بال درست کرنے کا خیال آیا۔ گھر سے نکلا اور کوئی دو کلومیٹر پیدل چل کر اسی دکان کا رخ کیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ دکان بندہے۔ میں نے ایک پڑوسی دکاندار سے پوچھا کہ یہ زلف تراش کہاں گیا ہے؟ بتایا گیا کہ اس نے کام چھوڑ دیا ہے۔ وجہ معلوم نہیں تھی۔میں نے اسے کہلا بھیجا کہ میرے گھر آکر میرے بال درست کرے۔ اگلے دن وہ میرے گھر آیا۔ میرے بال تراشے۔ میں نے اس سے پوچھا،...
انتہا پسندی
- Get link
- X
- Other Apps
انتہا پسندی شدت تعصب کا نتیجہ ہے اور تعصب انسانی فطرت کا حصہ ہے جو کسی میں زیادہ اور کسی میں ہوتا ہے۔ گو کہ اجکل انتہا پسندی سے ہم مذہبی شدت پسندی لیتے ہیں جو نا درست ہے۔ یہ مذہب کے علاوہ سیاسی، نسلی، لسانی اور علاقائی بھی ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنے مذہبی یا سیاسی نظریے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اوراپنی نسل اور زبان کو اعلی و ارفع سمجھتے ہیں اور ان کے نظریہ سے اختلاف ان کو انتہائی بڑا جرم نظر آتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی سمجھ کے مطابق اس "جرم"کے خلاف انتہائی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ نظریہ اگر مذہبی ہو تو اس کے رد عمل میں زیادہ شدت نظر آتی ہے۔ سیاسی، نسلی، لسانی،علاقائی وغیرہ قسم کے نظریات مختلف درجے کی شدت رکھتے ہیں۔ دنیا میں کونسا مذہب ہے جس میں انتہا پسند موجود نہیں ہوتے؟ یا کونسی نسل ہے جو اس عیب سے پاک ہے؟ کیا انگریزوں میں یا جرمنوں میں نسلی تعصب نہیں ہے؟ کیا یہودیوں، عیسائیوں، ہندووں وغیرہ میں مذہبی انتہا پسند موجود نہیں ہیں؟ دنیا کا کوئی بھی مذہبی، نسلی یا لسانی گروہ یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ ان کے اندر انتہا پسند افراد نہیں ہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ بعض گروہ میں اس...
اسیرو زندگی. 10
- Get link
- X
- Other Apps
ہونزیک استاذ اسپہ نسہ گتی مہ ووݰکی غیری ریتئے،" اے لالو جاو! تو پاس ہو کیہ۔ بوغے مہ تے شیرینی انگیے" استادو ویلٹیار مݰقری مہ بچے ہاݰ مݰقری اوشوئے کہ ہتو امید نو اوشوئے۔ اوا تان ژانہ تان سورو فیل کوری پھارنے استم۔ مہ تان کارن سورا یقین نوہوئے۔ غزمینار ڈیشٹ تورودی ہوتم۔ استادو ہے جٹھ کھوار متے بوسونو مایونو شیرین ہوازوسار زوالو سریتئے۔ ھ ٹیمہ استازمذ مہ سار کیاغ دی مݰکیرا اوا دریغ نو کورے سام۔ نن تتان وخشی تت مالدار لال، نن مہ لائق چارغیریوکئے۔ یار چموٹو ہار ہُنار دوری ہار اشناری ٹیپ، نہ پیسو کمی، نہ لیش پئیو کمبودی نہ ہخوراکو شومک اوشوئے۔ ہتے زمانا کوس کہ انبو ژو وا لیشپئے باوتانی ہسے لوٹ موش جوݰونو باوور۔ ہتے سم جستہ پیسہ دی کہ اوشوئے تھ کیہ بشار! اوا ریتم " جاملا استاذ چھوچی انگوم" پاس بیرو ڈق استاذاننتے شیرینی ٹ انگیکو رواج اوشوئے۔ ہتوتے صرفہ دی راونی۔ ای قسمہ دعوت اوشوئے۔ شاگردان تان خوشانین جم ݰاپک بچے استاذاننتے انگیاونی یا دورا مݰکی ݰاپک دیاونی۔ استاد صائب اچی غیری ریکی "نولا چھوچی نو ہنیسے انگیے". اوا ریمکہ اے استاد ہنیسے اہی توری ݰاپک کورے ہیہ ...
جمہوری طرز عمل کا فقدان
- Get link
- X
- Other Apps
جمہوری طرزعمل جمہوری روایات کی پاسداری سے ہی جمہوریت پروان چڑھتی ہے۔ ہم جس زمانے میں اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھتے تھے یہ دور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا تھا۔ ہمارے کالج کی طلبہ یونین "خیبر یونین" طلبا کی جمہوری طرز حکومت کی تربیت گاہ تھی۔ باقاعدہ انتخابات ہواکرتے اور قائدحزب اقتدار اور اختلاف منتخب ہوا کرتے۔ کابینہ بنتی اور ایوان کی کاروائیاں۔انجام پایا کرتیں۔ خیبر یونین ھال میں قائد حزب اقتدار اور حزب مخالف کی تقاریر کے دوران مخالفیں ہوٹنگ بھی کیا کرتے اور ایوان میں شورشرابہ عام سی بات تھی۔ میں ذاتی طور پر اس شور شرابے کا خلاف تھا اور ایک دوسرے کے موقف کو سننے اور پھر مدلل جواب دینے کے حق میں ہوتا تھا لیکن ہماری بات کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا تھا؟ اس لیے میں اورامجھ جیسے موقف رکھنے والے طلبا خیبر یونین ھال سے نکل کر ہوسٹل میں سستانے ترجیح دیا کرتے۔اس زمانے سے میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ شاید ایک دوسرے کی باتیں نہ سننے دینا اور اسمبلی ھال میں شور شرابہ کرنا ہی جمہوری طرزعمل ہے۔ اس قسم کی جمیوریت سے نفرت سی پیدا ہوگئی تھ...
کرپشن
- Get link
- X
- Other Apps
عادت بد مثل خار راہ حضرت جلال الدین رومی رحمت اللہ علیہ مثنوی میں فرماتے ہیں کہ بری عادت کی مثال سڑک کے اوپر اگنے والی جنگلی کانٹے دار جھاڑی کی ہے جو ہر راہ چلنے والے سے الجھ جاتی ہے اور اس کے کپڑے پھاڑ دیتی ہے۔ اس کے پاوں کو لہولہان کرتی رہتی ہے۔ اسے اگر اگنے کے کچھ عرصہ بعد تک اکھاڑلیا جائے تو اسانی کے ساتھ اسے راستے سے ہٹایا جاسکتا ہے کیوں کہ اسکی جڑیں کمزور ہوتی ہیں۔۔ اگر کل پرسوں پر چھوڑ دیا جائے تو ہر گزرے دن کے ساتھ وہ مضبوط اور توانا ہوتی جائے گی اور اس کا اکھاڑنے والا بوڑھا اور کمزور ہوتا جائیگا اور اسے اکھاڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائے گا۔ لہذا جتنی جلدی ہوسکے اس کانٹے کو اس کی پیدائش کے شروع ہی میں اکھاڑ پھینک دینا عقلمندی ہے۔ بری عادتوں کی بڑی لمبی فہرست ہے جن سے ہر کوئی صاحب شعور انسان باخبر ہے۔ میں ان کی تفصیل مین نہیں جاوں گا۔ میری اپنی کئی بری عادتیں تھیں۔ ان میں کچھ کو تو ان کی پختگی سے پہلے چھوڑنے میں کامیاب ہوا جبکہ ایک عادت ایسی رہ گئی جس کی عمر پچاس سال کی ہوگئی اور بقول رومی رحمت اللہ علیہ میری راہ میں اگا ہوا یہ کانٹا تناور درخت بن گ...