Posts

آذربائجان ۔۔۔۔11

Image
 نقوش : گوبستان یا قوبستان میں واقع قدیم انسانوں کے چھوڑے ہوئے نشانات دیکھنے مجھے اکیلے جانا پڑا کیونکہ بیگم صاحبہ کو اس قسم کی فرسودہ چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ڈاکٹر زوبی کو اپنی ماں کے ساتھ ٹھہرنا پڑا۔ میں سیاحوں کی ٹولی کے ساتھ ایک کمپنی کی گاڑی میں ایک باتونی گائیڈ کی رہنمائی میں صبح 9 بجے باکو شہر سے روانہ ہوا۔ سیاحوں کی یہ ٹولی چھ بندوں پر مشتمل تھی۔ ایک انگریز مرد اور خاتون کی جوڑی اور دو پاکستانی میاں بیوی جن کی گود میں ایک شیر خوار بچی تھی۔ گائیڈ اور ڈرائیور ملا کر کل اٹھ افراد بن گئے گو کہ گاڑی کافی بڑی تھی ۔ اس موسم میں یہاں سیاح کم ہوتے ہیں۔ باکو شہر سے روانہ ہوتے ہی ہمارا قوی الحبثہ، کوہ نما ناک والا سیاحتی رہنما نے بولنا شروع کر دیا۔ اس کی انگریزی اچھی تھی لیکن بولنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ نصف سے زیادہ باتیں سمجھ میں نہیں آئیں۔ اس لیے اس کو سننے کی بجائے میں نے ارد گرد علاقوں کو دیکھنا  مناسب سمجھا تاکہ علاقے کا نقشہ ذہن میں محفوظ ہو۔  جب مجھے کچھ پوچھنے کی ضروت پڑی تب اس بندے کی طرف دیکھنے کی زحمت کی۔ باکو سے شمال م...

بومکی کھوار پیڅھونو بوین

 بومکی ای ژاغو سفن سار پرانو رویَنتے یا قَمَنتے ریر۔ ہیہ را آوا وارو بچے استعمال ارتم۔ صہی کی نو سریتائے متے لُو دیور۔ اصلی کھواروت اسپہ بومکی کھوار کی ریتم کیہ غلط نو بوئے۔ موجودہ کھوار بو آموشتہ بتی شیر۔ فارسی اوچے عرابی ار علاوہ ترکی، ہندی،سنسکرت پروشٹی تن ہیہ را شامل اوشونی۔ ہنیسے اردو، انگریزی ، اڑغانی وارو لوظ دی کھوارو حصہ بتی شینی۔ بِتی نو بِتی اسپہ کھوار لو دیاوا یا نویشاوا خور زبانوں لوظن شامل کوراو انگوسِیَن۔ ہیسو جُستہ اسپہ کھوارو اصلی لوظن پیڅھاو دی گوسِیَن۔  ہیہ اسکوردی مضمونہ آوا رشتان نامَن بارا مشقول بوسی کی ہتیت پیڅھونو بتی شینی یا پیڅھونو بکو بِتی شینی۔ نن/ نان: کھوارو ہیہ ژَنو سار شیرین لوظ روخڅونو بکو تاب۔ اسپہ ای کما زاروان کی دنیار بغاتم وا کا نن نو رینی ہمو ژاغو ممی، مم، امی، نانی گانی شینی۔ دادی، ۔ اسپہ نوغ نسلو اژیلی، نن گِنی تت گنی نن، تت ریکو تان سو  اسپوک جاݰُنِیَن۔ تَت/ تات: تتو ژاغو دادا، پاپا، بابا ڈیڈی گَنی شینی۔ بو کم کا تت رینیَن۔ واو، بپ: ہمی قدیمی لوظ افگار زارو غریب واو اوچے بپو بچے استعمال بونیَن۔ ریاستی دورہ ہمتن ژاغا واویو چے بابا ...

موروثی سیاسی قیادت

 ملکِ عزیز میں جمہوریت کے نام پر جو وراثتی سیاسی نظام چل رہا ہے یہ تشویشناک حد تک جمہور دشمن  ہے۔ یہ ایک بدبودار گلا سڑاطرز حکومت ہے  جسے جمہوریت کا نام دینا لوگوں کو بے وقوف بنانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ہمیں ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ان بانی تجربے کار سیاست دانوں پر بہت افسوس ہوتا ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے چند خاندانوں کی نا اہل اولاد کو اپنی پارٹیوں کے سربراہ کے طور پر قبول کیے ہوئے ہیں۔  جمہوریت میں سب سے پہلے سیاسی پارٹی جمہوری ہونی چاہیے جو مقررہ وقت پر صاف ستھرے چناو کے ذریعے پارٹی سربراہ اور معتمد خاص منتخب کرے اور جس کے کابینہ ممبران کو مشاورت اور فیصلوں کا مساوی حق حاصل ہو۔ پارٹی اور اس کے فیصلوں پر فرد واحد کی اجارہ داری نہ ہو۔  گاؤں کی سطح سے لے کر مرکز تک ہر سیاسی جماعت کی قیادت منتخب رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہو تب وہ جمہوری پارٹی کہلائے گی۔ بدقسمتی یا اپنے عوام کی جہالت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں کی سربراہی وراثت کے طور پر منتقل ہوتی رہی ہے۔ پارٹی کا سربراہ  پارٹی میں سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ سارے فیصلے ایک آدمی کرتا ہے چ...

زبان قوم کی پہچان

زبان قوم کی پہچان  جس وقت برصغیر پاک و ہند میں  آزادی کی تحریک چلی تھی اس کی بنیاد ہمارا دین اور اس کی روایات تھیں۔ ماضی میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا حکمرانوں اور اکثریتی قوم کے امتیازی سلوک نے ہمیں ایک علحیدہ قوم ہونے کا احساس دلایا تھا۔ اس احساس سے تحریک آزادی کا جنم ہوا۔  ہمارے بزرگوں کی تخلیق اردو زبان جس کی ترقی کا دور شروع ہو چکا تھا،  اس تحریک کی آواز بنی۔ مختصر یہ کہ برصغیر میں ہم ایک مسلمان قوم  کی حیثیت سے اپنا تشخص اور ازادی برقرار رکھنے کی جد و جہد کا آغاز اردو زبان کے  ذریعے سے کیا اور اپنی منزل پاکستان حاصل کیا۔ آج بھی یہی تین عناصر ہمارے تشخص اور تحفظ کی ضمانت ہیں۔ پاکستان قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اسلام ابدی مذہب ہے اور قیامت تک زندہ  اور اپنے زرین اصولوں پر قائم رہے گا اور اردو ہماری قومی یکجیتی کا ایک مضبوط وسیلہ اور قومی ترقی کی ضامن ہے کیونکہ اس کی نشونما میں مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ ہندو ، سکھ، انگریز علماء نے بھی بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے بابائے قوم نے اردو کو آج کے دن ملک کی قومی زبان قرار دیا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ہم ...

افسوس صد افسوس!

 افسوس صد افسوس! میں ایک بزرگ شہری ہوں جسے پاکستان کی چشم دید تاریخ 1958 تا حال اچھی طرح یاد ہے۔ میں نے گہری نظر سے اپنے ملک کی حکمرانی کا مشاہدہ کیا ہے۔ سیاسی اور  فوجی حکومتوں کے ماتحت رہا اور بغور مشاہدہ کیا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ فوج کا کوئی قدم جان بوجھ کر ملکی مفاد کے خلاف رہا ہو بلکہ فوجی حکمرانوں (ماسوائے یحییٰ کے) کی نگرانی میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن رہا تھا۔ ملک کا وقار بلند رہا تھا۔ کرپشن نہیں تھی۔ انصاف تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب کی حکومت ہو یا جنرل پرویز مشرف کی، عوام خوشحال تھے۔ ملک کے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے فوجی حکمرانوں کے مرہون منت ہیں۔ جہاں تک فوجی حکومت کی قانونی حیثیت کا تعلق ہے تو آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ قانون اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتا کہ ملک کساد بازاری اور انارکی کا شکار ہو جائے۔ ملک کا امن و امان تباہ ہو جائے۔ بد عنوانی میں ترقی کر جائے۔ عوام افلاس میں مبتلاء ہو جائیں۔ عوام کا پجاس فیصد اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہ جائیں۔ ہمارے سیاست دانوں نے کب آئین کی پاسداری کی ہے؟ ملک کے سابق سپہ سالار، سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی وفات کے بعد ان کے خلاف زہر افشانی...

آذربائیجانی...10

 ینار داغ میں زیادہ نہ ٹھہر سکے کیونکہ سردی ہڈیوں میں اتر گئی تھی۔ باہر نکلے اس امید پر کہ جلدی ٹیکسی مل جائے گی کیونکہ یہ جگہہ بر لب سڑک تھی۔ ہمیں سڑک کے کنارے انتظار کرنا پڑا جہاں بارش اور ہوا سے بچنے کے لیے کوئی بس اسٹاپ قسم کی چیز نہیں تھی۔ ایسے سیاحتی مقام پر چھوٹی موٹی انتظار گاہ ہونی چاہیے۔ ہمیں خالی گاڑی نہیں ملی۔ آخرکار ایک سواری والی ٹیکسی نے ہمیں دو کلومیٹر  آگے گاؤں تک کے لیے لفٹ دی۔ بوڑھا ڈرائیور تھا۔ میں اس کی اس ہمدردی پر بہت خوش ہوا۔ جب اس بستی پہنچے جہاں ہمیں گاڑی مل سکتی تھی تو اس نے ہمیں اتارتے ہی ایک دوسری ٹیکسی کے حوالے کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اسے کرایہ دینے کا ارادہ کیا تو اس نے انکار کیا۔ پھر اس دوسری ٹیکسی کے ڈرائیور سے باکو تک کے لیے کرایہ کا پوچھا تو اس نے پچاس منت بتایا جو عام ریٹ سے پانج گنا زیادہ تھا۔ ہم نے کہا شکریہ ہم اپنے لیے ٹیکسی کا بندوبست خود کریں گے۔ جب ہم نے اس بوڑھے ڈرائیور کی پیشکش والی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کیا تو ظالم  بوڑھے نے اس دو کلومیٹر لفٹ کا کرایہ ہم سے پانج منت کھڑے کھڑے وصول کیا۔ تب پتہ چلا کہ آذربائیجانی ٹیکسی ڈرائیور...

چترال کی چلتی پھرتی تاریخ

Image
بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی قوت حافظ سے نوازا ہے۔ قدیم زمانے کے لوگوں کا حافظہ مضبوط تھا۔ اس کی ایک وجہ لکھت پڑھت کا نہ ہونا تھی۔لوگوں کو اپنا شجرہ نسب، بزرگوں کے اقوال اور نصیحتیں سب کچھ اپنے حافظے میں محفوظ کرنا ہوتا تھا۔ جب تعلیم کا رواج ہوا تو حافظ پر بوجھ ہلکا ہو گیا۔ لوگ اپنی یادداشتیں کاغذ کے سپرد کرنے لگے۔ یہاں سے قوت حافظہ کی کمزوری کا آغاز ہوا۔ آج ہم جب کچھ پرانا واقعہ کسی کو سناتے ہیں تو وہ حیرانگی کا اظہار کرتا ہے کہ آپ نے یہ کیسے یاد رکھا حالانکہ اپنے ہم عصروں میں میں ہی سب سے کمزور حافظے کا مالک ہوں۔  میرے ہم عمر دوست احباب میں  مرحوم گل مراد خان حسرت اور بلبل ولی خان بلبل بلا کا حافظہ رکھتے تھے مگر افسوس یہ ہے کہ انہوں نے اپنی یادداشت تحریری طور پر محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈاکٹر عنایت الله فیضی کو بھی خداوند تعالیٰ نے مضبوط حافظ کی نعمت سے نوازا ہے اور وہ اس میں محفوظ یاداشت ہمارے ساتھ خوب بانٹ رہے ہیں ۔ اسی طرح ایک اور صاحب اللہ کے فضل و کرم سے حیات ہیں۔ ان کو ہم چترال کی چلتی پھرتی تاریخ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ چترال کی یہ زندہ تاریخ...