Posts

زندگیو سفار 26

نوغ دنیا جوشو جماعتو انتحانو نتیجہ نسیکو انوس آوا پرکوسپہ استم۔ مه موژغیشٹی تاتیو لوٹھورو ژورو ویݰئیاو اوشونی۔ مه ہتے اسپسارو بونیو ݯارویلان دیہہ جلال فدا میکئیو لوٹھورو ژاو رحیم فدوتے ویشئیاو اوشونی۔خلتھ بار میر صفدر خان لالو لوٹھوریہ توری استانی۔ اسپہ ݰویو بیرو مینوان سو  مینوان ختانہ ٹپ بتی نشی استانی۔ ہرونیہ کھوار پروگرام ݯوکیتئے۔ شامو وختہ کھوار ݯوکاوتئے۔ اناونسر اعلان آریر کی جوشو نتیجہ نسی شینی۔ ہنیسے فلانکیو سار ( خبار دیاکو نم جم مه ہردی نو گوین۔ لطف الرحمن کیہ اوشویہ) جوشو جماعتو نتیجان کار کورور۔ نچو اویلہ تن مه نمو گانی ہموݰ مݰقریو پرائے کہ "سٹیٹ ہائی اسکول ݯھترارو شیرولی خان ݯھوئے شورو چے جوشپونݮ  لمبار گانی ݯھترارو ریاستہ اول لمبار ہائے"۔ ہیہ خبار بو لوٹ مشقری اوشوئے۔مہ ہاش کیہ امید نو اوشوئے کہ آوا درست ݯھترارا اؤل لمبار گوم رے۔ بمبارکی رے قوژد ہوئے۔ کا مه غیچہ بھ اریر، کا ارقتو پھری اریر۔ پھار لوڵتم کی مه موژغیشٹی تاتی خوشانیو سو بس نو گیتی کیڵیرن۔ ہتے انوس پرکوسپو اسپہ پرانو دورۂ خوشانیو سورتو خوشانیو ہوئے۔ یی چارغیریہ کوری ننوچے تتوتے مݰقری انزیکو کیہ ذریعہ ...

پی ٹی آئی کی مقبولیت

مارچ کے آخری ہفتے جس وقت متحدہ حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کا زور شور تھا تو ایسا لگا تھا کہ اول وہ تحریک کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ اگر متحدہ حزب اختلاف پی ٹی آئی کی حکومت گرانے میں کامیاب ہوئی بھی تو اس سے عوام کو نقصان ہوگا۔ البتہ پی ٹی آئی کو ہر دو صورتوں میں فائدہ ہوگا۔ تحریک کی کامیابی اور عدم کامیابی دونوں عمران صاحب کے حق میں جائیں گی۔ تحریک کی کامیابی کی امید نہیں تھی۔ عدم تحریک کی کامیابی کے پیچھے مضبوط کرداروں کا ہاتھ جب کھل کر حرکت میں آیا تو عمران خان صاحب کی حکومت گرا دی گئی۔ اس کے بعد کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملی اور نہ آئیندہ کے لیے ملتی نظر آ رہی ہے بلکہ مہنگائی کا دیو پوری طرح غریب عوام پر حملہ آور ہوا ہے اور ہوتا رہے گا۔ مزید مہنگائی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ شہباز شریف صاحب آئی ایم ایف سے مزید قرض لے کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرے اور ملک کو گروی رکھنے کی حد تک مقروض کرے۔ اب تک کے عوامی ردعمل سے ہر کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ عمران خان صاحب کی حمایت بہت بڑھ گئی ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر حکومت نے پکڑ دھکڑ کے ذریعے ...

گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول بانگ میں یوم والدین

 چھبیس ماہ حال کو جی ایچ ایس بانگ میں یوم والدین کی تقریب میں بطور مہمان مدعو تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ اس ادارے کی کسی تقریب میں میری دوسری مرتبہ شرکت تھی۔ جب بھی اس ادارے کے اندر جانے کا اتفاق ہوتا ہے ماضی میری آنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوتا ہے۔ سٹیج پر بیٹھتے ہی 1956 کا وہ نقشہ نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے جب میں اس اسکول کی جماعت اول میں داخل ہوا تھا۔ پانج سال یہاں طالب العلم رہا۔ بانگ پولو گراؤنڈ "پڑینج" کے کنارے ایستادہ وہ کچی عمارت، وہ چھوٹے چھوٹے کمرے، وہ ایک یا دو اساتذہ اور وہی بیس پچیس پھٹے پرانے کپڑوں میں لپٹے طلباء اس ادارے کی کل کائینات تھے۔ ان پانج تعلیمی سالوں کے دوران موڑ بانگ کے استاد شاہ مسلم مرحوم ، بونی کے سید محمد شیر مرحوم، ہنزہ کے محمد کریم مرحوم اور ان کے بعد محترم سید دینار علی شاہ یکے بعد دگرے ہمارے استاد رہے۔ پرائمری تعلیم کا وہ زمانہ ہم نے روزانہ سات میل سفر کرتے اسکول کے ننگےفرش پر بیٹھے گزارا تھا۔ آج میرے سامنے صاف ستھرے لباس میں ملبوس بچوں کی ایک بڑی جمیعت جلوہ افروز تھی۔ ماؤں اور باپوں کی بڑی تعداد کرسیوں پر بیٹھی ہمہ تن گوش تھی۔ میرے پہلو میں جوان ...

اے کے ایچ ایس پی آئی کلینک بونی

پچھلے برس جنوری سے آغاخان ہیلتھ سروسز پاکستان نے ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر کی مدد سے گلگت میں امراض چشم کا شفاخانہ کھولا ہے2020 کے وسط میں جب ڈاکٹر موصوفہ آئرلینڈ سے اسپیشلائزیشن مکمل کرکے پاکستان لوٹی تب سے اے کے ایچ ایس پی والے ان سے رابطے میں رہے۔ کلینک کے قیام اور سامان کے متعلق آن لائین مشورے ہوتے رہے تا آنکہ یکم جنوری 2021 کو ڈاکٹر سرنگ نے گلگت آئی کلینک میں علاج معالجے کے آغاز کیا اور آج تک خدمات انجام دے رہی ہے۔ درین اثناء چترال (اپر اور لوئر چترال) کے مرکزی مقام بونی میں بھی آئی کلینک کھولی گئی۔ چونکہ راقم الحروف جملہ پروسیجر سے مکمل طور پر باخبر رہا ہے اس لیے اس بلاگ کے ذریعے چترال کے ان بزرگوں، بہن بھائیوں اور برخورداروں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کی خواہش ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع کے اندر آئی کلینک قائم ہوں تاکہ مریضوں کو سہولت ہو۔ان کی یہ خواہش بالکل معقول ہے البتہ آغا خان ہیلتھ انتظامیہ اور ڈاکٹر زبیدہ سرنگ کے لیے مشکلات درپیش ہیں۔ متعلقہ مشینوں اور سٹاف کے لیے نوٹی رقم چاہیے ہوتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ بونی میں آئی کلینک کا قیام اے کے ایچ ایس پی کے پروگرام میں شامل نہیں تھا۔ یہ م...

شاندار عزت افزائی

Image
چند دن پہلے ڈائریکٹر جنرل ادارہ تعلقات عامہ( ISPR) کے ہیڈ کوارٹر  سے خط موصول ہوا جس میں مجھ ناچیز کو 23 مارچ 2022 کی یوم پاکستان کی پریڈ کی تقریب میں "فخر پاکستان نشست گاہ" کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ صرف میرا ہی نہیں میری ہونہار بیٹی ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر کو بھی یہ اعزاز بخشا گیا تھا۔ پیارے وطن کے شمشال گلگت اور یارخون چترال سے لے کر گوادر بلوچستان اور کراچی کے ساحل تک کوئی 75  خواتین و حضرات ، بچے بچیوں کو اس اعزاز کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ دعوت نامہ کے مطابق ہم 22 مارچ سے 24 مارچ 2022 تک پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے مہمان بننے والے تھے۔  پاکستان آرمی کی طرف سے ملنے والی یہ عزت افزائی ہم جیسے لوگوں لیے بہت ہی بڑی قدر افزائی تھی جس کا لفظوں میں اظہار ممکن نہیں۔ یہ ملک عزیز کی تاریخ میں دوسری قومی تقریب تھی کہ ملک کے باوقار ادارے نے بغیر کسی امتیاز دین و مذہب، رنگ و نسل اور دنیاوی مقام کے ملک کے ان افراد کو اس معزز نشستت گاہ ( انکلوژر) کے لیے چنا تھا جنہوں نے زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی ایسا کام سر انجام دیا تھا جو پاکستانی قوم و وطن کی تعمیرو ترقی ، توقیر و عزت اور...

پاکستان کا قابل اعتماد ادارہ

جس زمانے سے قومی اداروں کے اندر سیاست کا عمل دخل شروع  ہوا ہے  ہمارے قومی اداروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ نہ صرف کارکردگی زوال پذیر ہوگئی ہے بلکہ ان کر اوپر سے عوام کا اعتماد بھی اٹھ گیا ہے۔ ان اداروں کے اندر کام کرنے والے ملازمین ہر صاحب اقتدار پارٹی اور افراد کے زاتی نوکر بن کر رہ گئے ہیں۔ بڑے سے بڑا آفیسر بھی آئین اور ضوابط کے مطابق اپنا اختیار استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ ہر کام، ہر فیصلہ حکمران حضرات کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ ملازمین کی تقرریاں، تبادلے، ایم پی اے، ایم این اے، وزیر و مشیر  یہاں تک کے ایک معمولی سیاسی کارکن کے ہاتھ ہیں۔ اسی وجہ سے اداروں کو چلانے والے چھوٹے بڑے ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی نمائیندوں کو خوش رکھنے کی فکر میں وقت گزارتا ہے۔ بعض کو اپنی کرسی بچانے کی فکر رہتی ہے تو بعض غیر قانونی مہربانیاں وصولنے کے لیے اپنا ضمیر بیچتے ہیں۔ اس لیے سرکاری ملازمین ریاست سے زیادہ ریاست چلانے والوں کے وفادار بن گئے ہیں۔  ایک طرح سے یہ ان کی مجبوری ہے۔ بال بچوں کا پیٹ پالنے کی مجبوری یا حرص و لالچ کا پیٹ بھرنے کی مجبوری۔ یوں ہمار...

تحریک عدم اعتماد کی جدوجہد

کافی عرصے سے منتشر حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش میں سرگردان ہے۔ اپوزیشن کی آپس میں دشمن جماعتیں دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہیں۔ ان کی یہ منافقانہ دوستی کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور اس سے کس کس کو کیا کیا فایدہ پہنچتا ہے یہ ہم جیسے غیر سیاسی، ڈکٹیٹرشپ پسند "جاہل" لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں۔ جو نہیں سمجھتے ہیں وہ ان پارٹیوں کے نا اہل سربراہ ہیں۔ عوام کو اس قسم کی غیر ضروری پارلیمانی مشق سے نقصان کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا ہے۔ اگر اپوزیشن جوڑ توڑ کے ذریعے عمران خان صاحب کو ہٹانے میں کامیاب بھی ہوئی ( اگرچہ اس کا امکان بہت کم ہے) تو عوام کو ریلیف ملنے والی نہیں ہے بلکہ بہت بڑا نقصان ان کے نصیب میں ہوگا جب یہ ترقیاتی کام پھر ٹھپ ہو جائیں گے۔ ہر حکومت اپنی مدت حکومت کے آخری دنوں میں عوام کو ریلیف دیتی ہے تاکہ اگلے انتخابات کے لیے راستہ ہموار ہوسکے۔ اگر عمران خان صاحب کی حکومت چلی جاتی ہے تو عوام کو وہ ریلیف نہیں ملے گی جس کی توقع ہے اور یوں عوام سراسر نقصان میں رہیں گے۔ اور ہاں یہ درست ہے کہ جن لوگوں کے خلاف کرپشن کے کیس چل رہے ہیں ان کو تھوڑی بہت ریلیف مل سکتی ہے۔ تحری...