Posts

گورنمنٹ ہائر سکینڈری اسکول بانگ میں یوم والدین

 چھبیس ماہ حال کو جی ایچ ایس بانگ میں یوم والدین کی تقریب میں بطور مہمان مدعو تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ اس ادارے کی کسی تقریب میں میری دوسری مرتبہ شرکت تھی۔ جب بھی اس ادارے کے اندر جانے کا اتفاق ہوتا ہے ماضی میری آنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوتا ہے۔ سٹیج پر بیٹھتے ہی 1956 کا وہ نقشہ نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے جب میں اس اسکول کی جماعت اول میں داخل ہوا تھا۔ پانج سال یہاں طالب العلم رہا۔ بانگ پولو گراؤنڈ "پڑینج" کے کنارے ایستادہ وہ کچی عمارت، وہ چھوٹے چھوٹے کمرے، وہ ایک یا دو اساتذہ اور وہی بیس پچیس پھٹے پرانے کپڑوں میں لپٹے طلباء اس ادارے کی کل کائینات تھے۔ ان پانج تعلیمی سالوں کے دوران موڑ بانگ کے استاد شاہ مسلم مرحوم ، بونی کے سید محمد شیر مرحوم، ہنزہ کے محمد کریم مرحوم اور ان کے بعد محترم سید دینار علی شاہ یکے بعد دگرے ہمارے استاد رہے۔ پرائمری تعلیم کا وہ زمانہ ہم نے روزانہ سات میل سفر کرتے اسکول کے ننگےفرش پر بیٹھے گزارا تھا۔ آج میرے سامنے صاف ستھرے لباس میں ملبوس بچوں کی ایک بڑی جمیعت جلوہ افروز تھی۔ ماؤں اور باپوں کی بڑی تعداد کرسیوں پر بیٹھی ہمہ تن گوش تھی۔ میرے پہلو میں جوان ...

اے کے ایچ ایس پی آئی کلینک بونی

پچھلے برس جنوری سے آغاخان ہیلتھ سروسز پاکستان نے ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر کی مدد سے گلگت میں امراض چشم کا شفاخانہ کھولا ہے2020 کے وسط میں جب ڈاکٹر موصوفہ آئرلینڈ سے اسپیشلائزیشن مکمل کرکے پاکستان لوٹی تب سے اے کے ایچ ایس پی والے ان سے رابطے میں رہے۔ کلینک کے قیام اور سامان کے متعلق آن لائین مشورے ہوتے رہے تا آنکہ یکم جنوری 2021 کو ڈاکٹر سرنگ نے گلگت آئی کلینک میں علاج معالجے کے آغاز کیا اور آج تک خدمات انجام دے رہی ہے۔ درین اثناء چترال (اپر اور لوئر چترال) کے مرکزی مقام بونی میں بھی آئی کلینک کھولی گئی۔ چونکہ راقم الحروف جملہ پروسیجر سے مکمل طور پر باخبر رہا ہے اس لیے اس بلاگ کے ذریعے چترال کے ان بزرگوں، بہن بھائیوں اور برخورداروں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن کی خواہش ہے کہ چترال کے دونوں اضلاع کے اندر آئی کلینک قائم ہوں تاکہ مریضوں کو سہولت ہو۔ان کی یہ خواہش بالکل معقول ہے البتہ آغا خان ہیلتھ انتظامیہ اور ڈاکٹر زبیدہ سرنگ کے لیے مشکلات درپیش ہیں۔ متعلقہ مشینوں اور سٹاف کے لیے نوٹی رقم چاہیے ہوتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ بونی میں آئی کلینک کا قیام اے کے ایچ ایس پی کے پروگرام میں شامل نہیں تھا۔ یہ م...

شاندار عزت افزائی

Image
چند دن پہلے ڈائریکٹر جنرل ادارہ تعلقات عامہ( ISPR) کے ہیڈ کوارٹر  سے خط موصول ہوا جس میں مجھ ناچیز کو 23 مارچ 2022 کی یوم پاکستان کی پریڈ کی تقریب میں "فخر پاکستان نشست گاہ" کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ صرف میرا ہی نہیں میری ہونہار بیٹی ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر کو بھی یہ اعزاز بخشا گیا تھا۔ پیارے وطن کے شمشال گلگت اور یارخون چترال سے لے کر گوادر بلوچستان اور کراچی کے ساحل تک کوئی 75  خواتین و حضرات ، بچے بچیوں کو اس اعزاز کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ دعوت نامہ کے مطابق ہم 22 مارچ سے 24 مارچ 2022 تک پاک آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے مہمان بننے والے تھے۔  پاکستان آرمی کی طرف سے ملنے والی یہ عزت افزائی ہم جیسے لوگوں لیے بہت ہی بڑی قدر افزائی تھی جس کا لفظوں میں اظہار ممکن نہیں۔ یہ ملک عزیز کی تاریخ میں دوسری قومی تقریب تھی کہ ملک کے باوقار ادارے نے بغیر کسی امتیاز دین و مذہب، رنگ و نسل اور دنیاوی مقام کے ملک کے ان افراد کو اس معزز نشستت گاہ ( انکلوژر) کے لیے چنا تھا جنہوں نے زندگی کے کسی بھی شعبے میں کوئی ایسا کام سر انجام دیا تھا جو پاکستانی قوم و وطن کی تعمیرو ترقی ، توقیر و عزت اور...

پاکستان کا قابل اعتماد ادارہ

جس زمانے سے قومی اداروں کے اندر سیاست کا عمل دخل شروع  ہوا ہے  ہمارے قومی اداروں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ نہ صرف کارکردگی زوال پذیر ہوگئی ہے بلکہ ان کر اوپر سے عوام کا اعتماد بھی اٹھ گیا ہے۔ ان اداروں کے اندر کام کرنے والے ملازمین ہر صاحب اقتدار پارٹی اور افراد کے زاتی نوکر بن کر رہ گئے ہیں۔ بڑے سے بڑا آفیسر بھی آئین اور ضوابط کے مطابق اپنا اختیار استعمال کرنے سے قاصر ہے۔ ہر کام، ہر فیصلہ حکمران حضرات کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ ملازمین کی تقرریاں، تبادلے، ایم پی اے، ایم این اے، وزیر و مشیر  یہاں تک کے ایک معمولی سیاسی کارکن کے ہاتھ ہیں۔ اسی وجہ سے اداروں کو چلانے والے چھوٹے بڑے ملازمین اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی نمائیندوں کو خوش رکھنے کی فکر میں وقت گزارتا ہے۔ بعض کو اپنی کرسی بچانے کی فکر رہتی ہے تو بعض غیر قانونی مہربانیاں وصولنے کے لیے اپنا ضمیر بیچتے ہیں۔ اس لیے سرکاری ملازمین ریاست سے زیادہ ریاست چلانے والوں کے وفادار بن گئے ہیں۔  ایک طرح سے یہ ان کی مجبوری ہے۔ بال بچوں کا پیٹ پالنے کی مجبوری یا حرص و لالچ کا پیٹ بھرنے کی مجبوری۔ یوں ہمار...

تحریک عدم اعتماد کی جدوجہد

کافی عرصے سے منتشر حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش میں سرگردان ہے۔ اپوزیشن کی آپس میں دشمن جماعتیں دوستی کی پینگیں بڑھا رہی ہیں۔ ان کی یہ منافقانہ دوستی کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور اس سے کس کس کو کیا کیا فایدہ پہنچتا ہے یہ ہم جیسے غیر سیاسی، ڈکٹیٹرشپ پسند "جاہل" لوگ بھی سمجھ سکتے ہیں۔ جو نہیں سمجھتے ہیں وہ ان پارٹیوں کے نا اہل سربراہ ہیں۔ عوام کو اس قسم کی غیر ضروری پارلیمانی مشق سے نقصان کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا ہے۔ اگر اپوزیشن جوڑ توڑ کے ذریعے عمران خان صاحب کو ہٹانے میں کامیاب بھی ہوئی ( اگرچہ اس کا امکان بہت کم ہے) تو عوام کو ریلیف ملنے والی نہیں ہے بلکہ بہت بڑا نقصان ان کے نصیب میں ہوگا جب یہ ترقیاتی کام پھر ٹھپ ہو جائیں گے۔ ہر حکومت اپنی مدت حکومت کے آخری دنوں میں عوام کو ریلیف دیتی ہے تاکہ اگلے انتخابات کے لیے راستہ ہموار ہوسکے۔ اگر عمران خان صاحب کی حکومت چلی جاتی ہے تو عوام کو وہ ریلیف نہیں ملے گی جس کی توقع ہے اور یوں عوام سراسر نقصان میں رہیں گے۔ اور ہاں یہ درست ہے کہ جن لوگوں کے خلاف کرپشن کے کیس چل رہے ہیں ان کو تھوڑی بہت ریلیف مل سکتی ہے۔ تحری...

پاک روس قربت

کم و بیش چوہتر سال بعد پاکستانی قیادت کو ہوش آ ہی گیا کہ ہمارے حق میں اپنے پڑوسی طاقتور ممالک کے ساتھ تعلقات استوار رکھنا ہی بہتر ہے۔ گرچہ حسب مخالف چھوٹے بڑے مختلف تاویلات کے ساتھ وزیراعظم عمران خان صاحب کے دورہ روس کو عوام کی نظروں سے گرانے کی کوشش کریں گے لیکن حقیقت کو جھٹلانا دیر پا نہیں رہتا۔ عمران خان صاحب کی حکومت کی خارجہ پالیسی پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا ہمارے ذہنوں کو روس کے خلاف زہریلی خوراک دی جاتی رہی تھی۔ یہاں تک میرے کانوں نے سنے اور میری آنکھوں نے پڑھیں کہ روس  خدا اور اس کو ماننے والی مخلوق کا دشمن نمبر ون ہے۔ روس کے اندر مذہب اور اخلاقیات کا نام و نشان نہیں ہے۔وہاں ماں، بہن، بیوی میں تمیز نہیں۔ وہاں بچے اپنے ماں باپ کو نہیں جانتے اور والدین اپنے بچوں کو۔ وہاں خاندانی نظام کا تصور ہی نہیں۔ وہاں چھوٹے بڑے ، مرد و زن ہر کسی کو محض دو وقت کی روٹی کے لیے سرکار کی خدمت کرنی ہوتی ہے۔ الغرض ایسی کہانیاں سنی تھیں کہ روس کا نام سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ کمیونزم کو ایک اژدھا بنا کر پیش کیا جاتا رہا اور ہمارے ذہنوں کو مکدر کیا ...

اپنی اپنی رائے

جب بھی وبائی مرض پھیلتا ہے تو وہ ہر کسی کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتا۔ کسی کو مار دیتا ہے تو کسی کو نیم مردہ کر دیتا ہے جب کہ بعض اس سے کم متاثر ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں سے دنیا پر حملہ آور کورونا وائرس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ میرے نزدیک ہمارے ملک کی سیاست بھی ایک وبائی بیماری جیسی ہے۔  یہ بعض لوگوں کو مار دیتا ہے۔ بعض کو نیم مردہ بناکر چھوڑتی ہے۔ ہم جیسے لوگ جو سیاست کا نام سن کر کانوں میں انگلیاں ڈال کر آواز روکنے کی کوششیں کرتے ہیں اس کی ہلکی سی آواز کو اپنے دماغ تک پہنچنے سے نہیں روک پاتے۔ چترال میں ان دنوں بلدیاتی انتخابات کا سیاسی بخار ایک سو دو درجے تک پہنچ گیا ہے جس کی تپش محسوس ہو رہی ہے۔ اس مرتبہ بہت سی پارٹیوں نے ویلج کونسل سطح تک اپنے نمائندے سامنے لا چکی ہیں اس لیے گھر گھر اپنی اپنی پارٹیوں کے امیدواروں کی کامیابیوں کی پیش گوئیاں یا امیدیں گرم گرم ہیں۔ میں نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اپنی غیر سیاسی عقل و دانش کا اظہار کروں۔ آخر یہ لوگ نمائیندگی تو ہماری ہی کریں گے۔ فائدے اور نقصان  تھوڑی بہت میرے حصے میں بھی آئیں گے۔ ہم از کم اپنی تحصیل کے "سیاسی خدمت " کے لیے سامنے آنے...