Posts

ہماری شرمناک سیاسی تاریخ

  ہماری شرمناک سیاسی تاریخ  سیاست پر بات کرتے ہیں تو ہمیں بھی سیاسی جوہڑ  کی کوئی مخلوق کہا جاتا ہے جو سراسر زیادتی ہے۔ ایسا سوچنا کہ سیاست پر لب کشائی بلکہ گلہ پھاڑ کر بولنے کا حق صرف اور صرف ان لوگوں کا ہے جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں، بیشک سیاست کا الف با بھی ان کو  نہ آتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسا بندہ چپ رہنے میں عافیت سمجھتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی چپ توڑنے کو جی کرتا ہے کیونکہ ہم بھی اس بدقسمت ملک کے باسی ہیں اور ہمیں بھی اپنی ناقص رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ جب زبان ہلکی سی کھلتی ہے تو چند ایک دوستوں کی طرف سے "پسند" اور "ناپسند" کے تمغے سینے پر سجھتے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں سے ہم جو سیاست دیکھ رہے ہیں یہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ہم ایسی سیاست دیکھتے دیکھتے بوڑھے ہو گئے جس میں عدم برداشت، مفاد کی جنگ، انا پرستی، غیر مہذب زبان، جھوٹ، فریب، بدعنوانی، اقربا پروری جیسی برائیوں کا راج رہا ہے۔ انصاف کا فقدان رہا۔ غریب غریب تر ہوتا گیا امیر امیر تر ہوتا گیا۔ ملکی وسائل سے فایدہ اٹھانے کی بجائے غیر ملکیوں اور ملکی سیاسی خاندانوں کو فائیدہ پہنچانے کے سبیل پیدا ...

انتقال غم آگین

سلطان روم لال چارویلاندہ بونی کی وفات ان کے عزیز و اقارب، دوست احباب اور علاقے کے عوام کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے۔ عمر کے لحاظ کافی عمر رسیدہ تھے تاہم دور حاضر میں لمبی عمر پانے کی مثالوں کو دیکھتے ہوئے سلطان روم بھائی ابھی جوان تھے۔ ان کا دل جوان تھا۔ ان کا مزاح ، ان کی ہر لطف گفتگو ابھی جوان تھی۔ ان کی قامت میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی تھی۔ حاضر جوابی اور بے لاگ انداز گفتگو جوانوں جیسے تھی۔ ان کی رحلت اس لحاظ سے بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے بھر پور اور شاندار زندگی گزاری۔ ان کی بے لوث محبت کی داستانیں ژندہ رہیں گی۔ 1966 سے سلطان روم بھائی کے ساتھ دوستی اور برادری کا رشتہ قائم تھا۔ ان کی دوستی اور محبت میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ سلطان روم اسم با مسمی تھے۔ ان کی کمی پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو ہوں کہ رب العالمین اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طفیل سلطان روم بھائی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین!

دروغ گو را حافظہ نہ باشد

فارسی زبان کو اگر اردو کی زینت قرار دی جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ فارسی بولنے والے ادباء، شعراء اور دانشوروں کی فہرست بھی کافی لمبی ہے۔ ان کے نگارشات اور فرمودات آج بھی ہماری تقریرو تحریر کو زینت بخشنے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بہترین دینی اور دنیاوی رہنمائی کا خزانہ ہیں۔ آج جب ہم اپنے محترم سیاسی رہنماؤں کی باتیں سنتے ہیں تو فارسی کا یہ مقولہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ واقعی جھوٹ بولنے والے کے پاس قوت حافظہ نہیں ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ یا تو اپنے سامعین کو حافظے اور عقل سے کورے سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں کسی بات کو یاد رکھنے کی صلاحیت بالکل بھی نہیں ہے۔ کوئی بات چاہے جتنی اہمیت کی کیوں نہ ہو انہیں یاد نہیں رہتی یا یہ خود اس صلاحیت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ گویا ہم ایسے لوگوں کو اپنا حکمراں چنتے ہیں جو قوت حافظہ سے مکمل طور پر محروم ہیں یا وہ ہمیں جانوروں سے بھی کم عقل سمجھتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ہم عوام اور ہمارا ملک خسارے میں ہیں۔ یہ کوئی معمولی خسارہ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور اس کے عوام کا مستقبل کا خسارہ ہے۔ ناقابل تلافی خسارہ ہے۔   یہاں ایک اور آہم سوال یہ پیدا ہوتا ہ...

کنج عافیت

وادئ یارخون اپنے پرامن اور آلودگی سے پاک ماحول کی بدولت آج بھی جائے سکون ہے۔  چترال کی وادیوں میں سب سے لمبی وادئ جو گاؤں بریپ کے نویشرو سروز سے شروع ہو کر قرمبر جھیل تک پھیلی ہوئی ہے۔ آسانی کے لیے اسے تین وادیوں میں تقسیم کرتے ہیں، یعنی وادئ یارخون پائین جو بریپ سے لے کر گزین تک کا علاقہ ہے۔ یہ کھلی وادی ہے جس کے بیچوں بیچ دریائے یارخون بہتا ہے اور دریا کے دونوں کناروں پر بستیاں آباد ہیں۔پھر دربند سے شروع ہو کر کنخون تک اس وادی کو سویارخون کہتے ہیں۔ کنخون سے قرمبر تک یہ وادئ بروغل ہے۔ تینوں وادیوں کو ملا کر عام طور پر وادئ یارخون کہا جاتا ہے۔اس کی مجموعی لمبائی کم و بیش 130 کلومیٹر ہے۔ پچاس چھوٹے بڑے گاؤنوں پر مشتمل ہے۔ اس کے اندر گرور گول، کھوتن، اوھرکن گول ، بانگ گول، پاور گول، وسم گول، گزین گول، درہء تھوئی، دربند ،اشپیر ڈوک، کوئے زوم، چٹی بوئے گلیشر، درہء درکوت، درکوت گلیشیر ، چیانتر گلیشیر ،درہ بروغل اور قرمبر جھیل قابل دید جگہے ہیں اور ٹریکنگ کے شائقین کے لیے دلکشی کا سامان رکھتی ہیں۔ ماضی میں یہاں سیاحوں کا تانتا بندھ جاتا تھا۔ غیر ملکی سیاح یارخون کو سیاحت کے لیے ترجیح دیتے...