اپَکہ دِک
چترالی ثقافت میں چند قدیم تہوار اور درجنوں رسمیں تھیں جن کی ادائیگی ضروری ہوا کرتی تھی۔ گزشتہ چار دھائیوں سے یہ رسمیں اور تہواریں ایک ایک کرکے بھلا دیے گئے۔ آج چترال میں کلاش ثقافت زندہ نہ ہوتی تو کوئی سیاح چترال کا رخ نہ کرتا۔ ایک عرصے سے ہم جیسے لوگ جن کو اپنے رسم و رواج کو زندہ رکھنے کی فکر رہی ہے اس بابت لکھتے لکھتے تھک گئے ہیں۔ آج ہماری نئی نسل ہماری روایات سے اتنی بے خبر ہے کہ جب ہم کسی پرانی رسم کا ذکر کرتے ہیں تو وہ حیرانگی کا اظہار کرتی ہیں۔ ایک طبقہ ہم میں وہ بھی ہے جو ان روایات کو فضول سمجھتا ہے اور انہیں مٹانے کی کوشش میں ہے ۔ یہ طبقہ دوسری ثقافتوں سے متاثر ہے۔ اس کو اپنی ثقافت میں کوئی جذبیت نظر نہیں آتی ہے۔ ان کی جگہہ جشن کے نام سے نئے تہوار تخلیق کر چکے ہیں۔ سن ساٹھ کی دھائی کے وسط میں جب میں سٹیٹ ہائی اسکول چترال ( موجودہ سنٹینئیل ماڈل ہائی اسکول چترال) کا طالب علم تھا تو جشن چترال کے نام سے ایک ہفتے کا جشن منعقد ہوا کرتا تھا جو چترال خاص میں منایا جاتا تھا۔ پولو، فٹ بال، ولی بال، باسکٹ بال ہاکی کے مقابلوں کے علاؤہ موسیقی اور ثقافتی پروگرام ہوا کرتے تھے...