Posts

وادئ ‏ہنزہ ‏و ‏نگر ‏۔۔۔۔1

وادئ ہنزہ و نگر ۔۔۔1ایک مدت سے دل میں شوق مچلتا رہا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اپنے پیارے ملک کی ایک پیاری سی وادی کو بچشم خود دیکھ سکوں۔ تحریر و تقریر میں بہت کچھ سنا تھا مگر " شنیدہ کئے بود مانند دیدہ". دوستوں کی محفلوں میں جب بھی ذکر سیر و سیاحت چھڑتا تو مجھے شرمندگی سی ہوتی کہ میں پاکستان کے شمالی پہاڑی وادیوں میں سے ایک وادی کا باسی  ہوتے ہوئے بھی اپنے پڑوس میں واقع ملک کی خوبصورت ترین وادی کو دیکھنے نہیں پایا ہے۔ ارادہ کرتا رہا لیکن آب و دانہ وہاں کا شاید موخر تھا۔ کئی دفعہ گلگت آنے جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک مرتبہ سکردو، گھانچھے اور استور دیکھنے کا موقع اے کے آر ایس پی نے فراہم کیا تھا لیکن نگر اور ہنزہ کی جنت نظیر وادی کے اندر جھانکنا نصیب نہیں ہوا تھا۔ پھر اللہ پاک نے میری بیٹی ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اسیر کو گلگت میں خدمات کا موقع دیا اور اس کے وسیلے سے ہمیں گلگت آنے کا ایک بار پھر  سے موقع ملا۔ پہلے سے طے کیا کہ اس بار اضلاع نگر اور ہنزہ ضرور دیکھ لوں گا۔ گلگت آتے وقت آغا خان ہیلتھ سروسز پاکستان گلگت اور چترال کے ذمے داروں نے گاڑی کی سہولت فراہم کی تھی اس لیے اپنی گاڑی ساتھ نہیں ت...

افسر شاہی پر تکبر ‏کا ‏دھبہ

ہمارا افسر شاہی اپنے تکبر اور غُرور کی وجہ سے عوام کی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ صرف تنقید ہی نہیں بلکہ نفرت کا ہدف بھی رہا ہے۔ چونکہ بیوروکریسی ہمارے گورے آقاؤں کی طرف سے ہمیں بطور میراث ملی ہے جو عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان سے پہلے برصغیر پر سلطانوں، راجاؤں اور بادشاہوں کا تسلط رہا ہے جن کے نزدیک عوام کی جان و مال اور عزت کی رتی برابر وقعت نہیں تھی۔ ان مطلق العنان حکمرانوں کے وزیر و مشیر اور اہلکار بھی ان جیسے فرعون ہوتے تھے اور عوام ان کی جوتیوں کا دھول ہوتے تھے۔ جب چاہیں انہیں اپنے پاؤں تلے مسل کر رکھدیں۔ اس لیے اپنی جان و مال اور آبرو بچانے کی خاطر ہر کوئی چاپلوسی، دست و پا بوسی اور آقاؤں اور ان کے چیلوں کو خوش رکھنے کے لیے ہر جائز ناجائز طریقہ ہائے خوشامد  استعمال کرتے تھے اور یہ مجموعی قومی مزاج بن گیا۔    عوام کے ماضی کو پڑھنے کے بعد ہمارے انگریز آقاؤں نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ عوام کو حقیر مخلوق اور اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع ہستی سمجھنا ان کی پالیسیوں کی بنیاد بن گیا۔ برصغیر سے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے نظام تعلیم اور نظام حکمرانی کو...

زندگیو ‏سفار ‏23

زندگیو سفار 23 ݯھترارو اولانو سفار 1964و فروری مسو بشیر ݯھوئے تاریخہ اوشٹو انتحان شروغ باو اوشوئے۔ انتحان ݯھترارو اسکولہ باوو اوشوئے۔ ہیہ سالہ پت توری ݯھترارو وچے لوٹکوہو اوشٹو ڈق جھترارہ بی انتحان دیاوتانی۔ مه یاد نو بوین ہتےوت دروسہ انتحانی سنٹر اوشویا نوا۔ امتحانو تاریخار ݯھوئے سوت بس پروشٹی مه دادا مه گانی راہی ہوئے۔ مه تت کیاوت دی ݯھترارو بوغاور سوت بسین پروشٹی تیاری  شروغیاوور۔ مه شیرین نن برٹ پاچیک شروغ کوئے۔ چئے ٹکی،ݰوݰپ، ݰیݰار، کُلچہ، خشٹ پاچیر۔ خومبوخو تیل نیزی ای بوتھالا کوئے، ݯھیرو  لچھے جم  ݱق کوری وا خور بوتھالو ٹپیر۔ ای جو سیر نسوارو پھیرو اوچے پیݰیرو تماکو ای ݰنگاݰیو دونی۔ تیاری نسوارو ای لوٹ پاویہ کوری تو زوڵیو دونی۔ جنت نصیب بیکو ننانی بیچی مه تتوتے نسوار پیݰاور۔ ننانی بیچی اسپہ گرمبیشو سید وے سورُو اوشوئے۔ مه دادا توتین " مه بزرگ اسپڅار" راوتئے۔ مه دادو  ہتے زوڵئیو شونج، جوالدیز، څھونڨور، شُتور،  براݱ، کیاغ نو بونی نو۔چئے جوش، پیالہ، قوپ، کیپھینی، چایو ݮھن، تروپ، گوڵک، ضرورتو ہار اشناری مه دادو خورجینو بک لازمی اوشوئے۔  کم سی کم جوشپونجی ...

زندگیو ‏سفار ‏22

مستوچ اسکولہ سوتو جماعتہ آسیکا ہائی سکول بونیو ہیڈماسٹر عبدالواسع صائب تان اسکولو ڈقان گنی مستوچتو کوساو ہائے۔ اسپہ اسکولہ بس ہونی۔ چھوچھین اسمبلیا اسپہ سمُ ل و پرائے۔ اویل سورہ فاتحو تلاوت اریر۔ اچی انگریزیا ترجمہ اریر۔ اسپتے بو تعجب ساریتئے مگم ای لوو دی ہوݰ نو ارتم۔ ہتیغار اچہ مستوچو اسکولو چے بونیو اسکولو والی بالو مقابلہ ہوئے۔ بونیو ٹیمہ شہری، رحمت غازیو چے ڵوماڵیوفدا مرحوم جم کھلاڑی اوشونی۔ مه او چے رحمت غازیو ہتے وختاری اچی دوستی ہوئے۔ ہتے دوستی ہمونیا پت زندہ شیر، الحمد للہ! مستوچو ٹیمہ حفظ آمان لال، راوف آمان، عبدلظفر خان مرحوم ،سید کریم علی شاہ جم کھلاڑی اوشونی۔ مستوچو اسکولو سبقو موژی آوا نادرسلطان لالو سو دی بلت ہوتم۔ ہسے ݯھترار اسکوٹہ سینگلیر اوشوئے وا مستوچ پوسٹہ اساوور۔ اسکوٹو پوسٹ اسکولو ݰویہ، ݯارویلو صاحب نگینو مکانہ ( ) قائم اوشوئے۔ اسپہ او چے اسکوٹن موژی والی بالو مقابلہ باور۔ بریپو اتالیغان دورو نادرسلطان لال زبردست کٹیر اوشوئے۔ بالوتے کی اہیی اوشٹوریر کوݰکو موڵہ پت نٹار ژانگ نساوتئے۔ وا ہتو کٹ دیرو بالوتین ہوست پھار درونگیکو ہمت نو باوتئے۔ ہتو شیلی جوانیوتین ارمان ...

زندگیوں سفار 19

دیزگو سیرا پھار نسیکو نو بتی یوکمو ووݰکی قدیمو پونین اہیی راہی ارتم۔ بیی بیی یوکم سیرا بیکو ٹُمٹنگ شام ہوئے۔ یوکمار پھُک موڵی شروغ بتی یوکمو سوری نسی کم دی کم ای ہزار گز ݱانگ زوموتین یوکم سیر رینی۔ قدیمہ نچھاغو ویلٹی پون شیکہ ھ زومو ٹکیکی  ته برائے۔ بریپہ گرورتو بوغاو دی ہیݰین تان کوساوا برانی۔ ہتے موژین ہسے پوکیڵ دی شیرائے مگم مه چقہ شمپھت ہتیغین پھار نیسیکو تان سورو کوریرو غون۔ ہتیغین دتی مه تتی مه گانی ہتے ٹیکھین بغئے۔ ہتے زومو ٹیکا بیکو ݰا کھوٹ اسمانی اییا توری بوݰیک یو غیریتئے۔ ہتے زمانا ہوستو بجلی نو گیتی اوشونی۔ بیروا مه تتیو سو خامخہ بیسیر۔ ہسے افسرو بچے ضروری اشناری تان سو لاکھاوور۔کیچہ ہوتم کیچہ نو یوکمو سورو دراغلی زوپھی، قف دوغورن ݯاکے اف خومیتم۔ اسپہ گمانہ بانگو تھصیلدار عبدالجہان خان یوکمو کیچ آسور رے، امیدا استم ہتیرا بس بوسی رے ۔ ہتو دورو کیہ روشتی غیچی نو ہائے۔ توری رو ای کوماڵین پھُک روشتی پوشی ہتیرا باتم۔ ہسے تو ݯھیر برارو پھُک کوٹو برائے۔ اسپہ پوشی پریشان ہوئے۔ نہ دوری باوری نہ پوریکو ژاغہ۔ ہتے دورو خڅُم پین جوان میک ( خودائے جنت دیار) مه تتیوت ریکا پرائے ، " ا...

زندگیو ‏سفار ‏۔۔۔ ‏21 ‏

مہ تتی میر صاحب خانو ہتے اشرو ہنُنو غون مه غیچی گونی وا ہار غیچی گیکا متے ہاݰ افسوس بوئے کی آوا ہتو ہتے ای انوسو پریشانیو وا ہتے موخو غوݯھار اشروان بدیلو ہتوتین اچی اویہرتیکو نو بیتم ہتو زندگیا۔ مه څیق تتی شیر نبی خانوت الله جنت نصیب کورار کی ہسے اوا جم بیکا پت پوشور اپاکہ نو تاریتئے "مه ژاوتین پرفیز آوا کیچہ ژیبوم رے". ہاݰ مہرو چ محبتو مک گینی ہنُن زمانا کورا اسونیا؟ تیتن روحانی زندگیو اسائشو بچین آوا ہمیشہ تان خودایوتین زاری کومن۔ الله پاک تیتن قبرا نور کورار۔ مه ہتے لہازیوت نابتو انداو راونی۔ ہتے زمانا اسپہ مستوچ اسکولو اچہ ڈسپنسری شاوتئے۔ قطب الدین ( ایبٹ ابادچی اوشوئے۔ مستوچہ دور کوری، بوک التی حال بتی استئے) پوسٹماسٹرو ژاو، محمد شفا ہیرا ڈسپنسر اوشوئے وا شفا ڈاکٹھار نمو سورا منشور اوشوئے۔ مه لہازیوت ہسے ای جو پاوی بوتھالا تروق اوغ متین پرائے۔ تروق رے نو راوے فقط سنکھیا اوشوئے۔ چھؤچی کی پیتم ویزینہ پت ہتو تروقی بوکتو لوچھاوتئے۔ ای مس ہتے تروق اوغو پیکو مه ہتے انداو بغئے۔ جوش نیوف شور تروئے بشیر ترویو سال مه جو تتی گینی پرکوسپہ آویلو بنگلہ نمو سورا مہمان خانہ ساوزیتانی۔ ت...

سردارعلی ‏صاحب

چترال کے پہلے سی ایس ایس آفیسر اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہے آج کے بچوں پر کہ وہ اپنی تعلیم اور زندگی کی خواہشات کے حصول کے سلسلے میں مالی پریشانیوں سے دوچار نہیں ہیں اور نہ انہیں ان قدیم منفی رویوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے جو تعلیم حاصل کر نے کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ خاص کرکے بچیاں جن کی پیشرو لڑکیاں تعلیم کے ساتھ بہت سارے حقوق سے محروم تھیں۔ جن بچوں کو آج مالی اور اعلے تعلیمی مواقع کی سہولیات میسر ہیں ان میں سے بہت سارےبچے نہ صرف بہترین تعلیم و تربیت سے مستفید ہوتے ہیں بلکہ اعلے سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز ہونے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ آئے روز ہمیں فیس بک اور دوسرے میڈیا کے ذرائع سے خوشخبریاں ملتی رہتی ہیں کہ فلان بچے نے بورڈ یا یونیورسٹی ٹاپ کیا، فلان نے گولڈ میڈل حاصل کیا، فلان نے کمیشن کا امتحان پاس کیا اور فلان فلاں میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ہم ان بچوں کو فخر چترال ہونے کے کم از کم زبانی اعزازات اور حوصلہ افزائی سےنوازتے ہیں۔ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کے چترال کا ج سے موازنہ کیا جائے تو ناقابل یقین حد تک فرق نظر آئیگا۔ ذہنی اور مالی اعتبار سے اس انت...