Posts

افسر شاہی پر تکبر ‏کا ‏دھبہ

ہمارا افسر شاہی اپنے تکبر اور غُرور کی وجہ سے عوام کی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔ صرف تنقید ہی نہیں بلکہ نفرت کا ہدف بھی رہا ہے۔ چونکہ بیوروکریسی ہمارے گورے آقاؤں کی طرف سے ہمیں بطور میراث ملی ہے جو عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان سے پہلے برصغیر پر سلطانوں، راجاؤں اور بادشاہوں کا تسلط رہا ہے جن کے نزدیک عوام کی جان و مال اور عزت کی رتی برابر وقعت نہیں تھی۔ ان مطلق العنان حکمرانوں کے وزیر و مشیر اور اہلکار بھی ان جیسے فرعون ہوتے تھے اور عوام ان کی جوتیوں کا دھول ہوتے تھے۔ جب چاہیں انہیں اپنے پاؤں تلے مسل کر رکھدیں۔ اس لیے اپنی جان و مال اور آبرو بچانے کی خاطر ہر کوئی چاپلوسی، دست و پا بوسی اور آقاؤں اور ان کے چیلوں کو خوش رکھنے کے لیے ہر جائز ناجائز طریقہ ہائے خوشامد  استعمال کرتے تھے اور یہ مجموعی قومی مزاج بن گیا۔    عوام کے ماضی کو پڑھنے کے بعد ہمارے انگریز آقاؤں نے بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا۔ عوام کو حقیر مخلوق اور اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع ہستی سمجھنا ان کی پالیسیوں کی بنیاد بن گیا۔ برصغیر سے رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے نظام تعلیم اور نظام حکمرانی کو...

زندگیو ‏سفار ‏23

زندگیو سفار 23 ݯھترارو اولانو سفار 1964و فروری مسو بشیر ݯھوئے تاریخہ اوشٹو انتحان شروغ باو اوشوئے۔ انتحان ݯھترارو اسکولہ باوو اوشوئے۔ ہیہ سالہ پت توری ݯھترارو وچے لوٹکوہو اوشٹو ڈق جھترارہ بی انتحان دیاوتانی۔ مه یاد نو بوین ہتےوت دروسہ انتحانی سنٹر اوشویا نوا۔ امتحانو تاریخار ݯھوئے سوت بس پروشٹی مه دادا مه گانی راہی ہوئے۔ مه تت کیاوت دی ݯھترارو بوغاور سوت بسین پروشٹی تیاری  شروغیاوور۔ مه شیرین نن برٹ پاچیک شروغ کوئے۔ چئے ٹکی،ݰوݰپ، ݰیݰار، کُلچہ، خشٹ پاچیر۔ خومبوخو تیل نیزی ای بوتھالا کوئے، ݯھیرو  لچھے جم  ݱق کوری وا خور بوتھالو ٹپیر۔ ای جو سیر نسوارو پھیرو اوچے پیݰیرو تماکو ای ݰنگاݰیو دونی۔ تیاری نسوارو ای لوٹ پاویہ کوری تو زوڵیو دونی۔ جنت نصیب بیکو ننانی بیچی مه تتوتے نسوار پیݰاور۔ ننانی بیچی اسپہ گرمبیشو سید وے سورُو اوشوئے۔ مه دادا توتین " مه بزرگ اسپڅار" راوتئے۔ مه دادو  ہتے زوڵئیو شونج، جوالدیز، څھونڨور، شُتور،  براݱ، کیاغ نو بونی نو۔چئے جوش، پیالہ، قوپ، کیپھینی، چایو ݮھن، تروپ، گوڵک، ضرورتو ہار اشناری مه دادو خورجینو بک لازمی اوشوئے۔  کم سی کم جوشپونجی ...

زندگیو ‏سفار ‏22

مستوچ اسکولہ سوتو جماعتہ آسیکا ہائی سکول بونیو ہیڈماسٹر عبدالواسع صائب تان اسکولو ڈقان گنی مستوچتو کوساو ہائے۔ اسپہ اسکولہ بس ہونی۔ چھوچھین اسمبلیا اسپہ سمُ ل و پرائے۔ اویل سورہ فاتحو تلاوت اریر۔ اچی انگریزیا ترجمہ اریر۔ اسپتے بو تعجب ساریتئے مگم ای لوو دی ہوݰ نو ارتم۔ ہتیغار اچہ مستوچو اسکولو چے بونیو اسکولو والی بالو مقابلہ ہوئے۔ بونیو ٹیمہ شہری، رحمت غازیو چے ڵوماڵیوفدا مرحوم جم کھلاڑی اوشونی۔ مه او چے رحمت غازیو ہتے وختاری اچی دوستی ہوئے۔ ہتے دوستی ہمونیا پت زندہ شیر، الحمد للہ! مستوچو ٹیمہ حفظ آمان لال، راوف آمان، عبدلظفر خان مرحوم ،سید کریم علی شاہ جم کھلاڑی اوشونی۔ مستوچو اسکولو سبقو موژی آوا نادرسلطان لالو سو دی بلت ہوتم۔ ہسے ݯھترار اسکوٹہ سینگلیر اوشوئے وا مستوچ پوسٹہ اساوور۔ اسکوٹو پوسٹ اسکولو ݰویہ، ݯارویلو صاحب نگینو مکانہ ( ) قائم اوشوئے۔ اسپہ او چے اسکوٹن موژی والی بالو مقابلہ باور۔ بریپو اتالیغان دورو نادرسلطان لال زبردست کٹیر اوشوئے۔ بالوتے کی اہیی اوشٹوریر کوݰکو موڵہ پت نٹار ژانگ نساوتئے۔ وا ہتو کٹ دیرو بالوتین ہوست پھار درونگیکو ہمت نو باوتئے۔ ہتو شیلی جوانیوتین ارمان ...

زندگیوں سفار 19

دیزگو سیرا پھار نسیکو نو بتی یوکمو ووݰکی قدیمو پونین اہیی راہی ارتم۔ بیی بیی یوکم سیرا بیکو ٹُمٹنگ شام ہوئے۔ یوکمار پھُک موڵی شروغ بتی یوکمو سوری نسی کم دی کم ای ہزار گز ݱانگ زوموتین یوکم سیر رینی۔ قدیمہ نچھاغو ویلٹی پون شیکہ ھ زومو ٹکیکی  ته برائے۔ بریپہ گرورتو بوغاو دی ہیݰین تان کوساوا برانی۔ ہتے موژین ہسے پوکیڵ دی شیرائے مگم مه چقہ شمپھت ہتیغین پھار نیسیکو تان سورو کوریرو غون۔ ہتیغین دتی مه تتی مه گانی ہتے ٹیکھین بغئے۔ ہتے زومو ٹیکا بیکو ݰا کھوٹ اسمانی اییا توری بوݰیک یو غیریتئے۔ ہتے زمانا ہوستو بجلی نو گیتی اوشونی۔ بیروا مه تتیو سو خامخہ بیسیر۔ ہسے افسرو بچے ضروری اشناری تان سو لاکھاوور۔کیچہ ہوتم کیچہ نو یوکمو سورو دراغلی زوپھی، قف دوغورن ݯاکے اف خومیتم۔ اسپہ گمانہ بانگو تھصیلدار عبدالجہان خان یوکمو کیچ آسور رے، امیدا استم ہتیرا بس بوسی رے ۔ ہتو دورو کیہ روشتی غیچی نو ہائے۔ توری رو ای کوماڵین پھُک روشتی پوشی ہتیرا باتم۔ ہسے تو ݯھیر برارو پھُک کوٹو برائے۔ اسپہ پوشی پریشان ہوئے۔ نہ دوری باوری نہ پوریکو ژاغہ۔ ہتے دورو خڅُم پین جوان میک ( خودائے جنت دیار) مه تتیوت ریکا پرائے ، " ا...

زندگیو ‏سفار ‏۔۔۔ ‏21 ‏

مہ تتی میر صاحب خانو ہتے اشرو ہنُنو غون مه غیچی گونی وا ہار غیچی گیکا متے ہاݰ افسوس بوئے کی آوا ہتو ہتے ای انوسو پریشانیو وا ہتے موخو غوݯھار اشروان بدیلو ہتوتین اچی اویہرتیکو نو بیتم ہتو زندگیا۔ مه څیق تتی شیر نبی خانوت الله جنت نصیب کورار کی ہسے اوا جم بیکا پت پوشور اپاکہ نو تاریتئے "مه ژاوتین پرفیز آوا کیچہ ژیبوم رے". ہاݰ مہرو چ محبتو مک گینی ہنُن زمانا کورا اسونیا؟ تیتن روحانی زندگیو اسائشو بچین آوا ہمیشہ تان خودایوتین زاری کومن۔ الله پاک تیتن قبرا نور کورار۔ مه ہتے لہازیوت نابتو انداو راونی۔ ہتے زمانا اسپہ مستوچ اسکولو اچہ ڈسپنسری شاوتئے۔ قطب الدین ( ایبٹ ابادچی اوشوئے۔ مستوچہ دور کوری، بوک التی حال بتی استئے) پوسٹماسٹرو ژاو، محمد شفا ہیرا ڈسپنسر اوشوئے وا شفا ڈاکٹھار نمو سورا منشور اوشوئے۔ مه لہازیوت ہسے ای جو پاوی بوتھالا تروق اوغ متین پرائے۔ تروق رے نو راوے فقط سنکھیا اوشوئے۔ چھؤچی کی پیتم ویزینہ پت ہتو تروقی بوکتو لوچھاوتئے۔ ای مس ہتے تروق اوغو پیکو مه ہتے انداو بغئے۔ جوش نیوف شور تروئے بشیر ترویو سال مه جو تتی گینی پرکوسپہ آویلو بنگلہ نمو سورا مہمان خانہ ساوزیتانی۔ ت...

سردارعلی ‏صاحب

چترال کے پہلے سی ایس ایس آفیسر اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہے آج کے بچوں پر کہ وہ اپنی تعلیم اور زندگی کی خواہشات کے حصول کے سلسلے میں مالی پریشانیوں سے دوچار نہیں ہیں اور نہ انہیں ان قدیم منفی رویوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے جو تعلیم حاصل کر نے کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ خاص کرکے بچیاں جن کی پیشرو لڑکیاں تعلیم کے ساتھ بہت سارے حقوق سے محروم تھیں۔ جن بچوں کو آج مالی اور اعلے تعلیمی مواقع کی سہولیات میسر ہیں ان میں سے بہت سارےبچے نہ صرف بہترین تعلیم و تربیت سے مستفید ہوتے ہیں بلکہ اعلے سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز ہونے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ آئے روز ہمیں فیس بک اور دوسرے میڈیا کے ذرائع سے خوشخبریاں ملتی رہتی ہیں کہ فلان بچے نے بورڈ یا یونیورسٹی ٹاپ کیا، فلان نے گولڈ میڈل حاصل کیا، فلان نے کمیشن کا امتحان پاس کیا اور فلان فلاں میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ہم ان بچوں کو فخر چترال ہونے کے کم از کم زبانی اعزازات اور حوصلہ افزائی سےنوازتے ہیں۔ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کے چترال کا ج سے موازنہ کیا جائے تو ناقابل یقین حد تک فرق نظر آئیگا۔ ذہنی اور مالی اعتبار سے اس انت...

آج سے کوئی چالیس سال پہلے میرا ایک عزیز سعودی عرب میں ملازمت کر رہا تھا۔ میں نے ایک خط ان سے پوچھا، " عرب میں شعائر اسلام پر عمل درآمد مثالی ہوگا؟" ہم سب کو یہ یقین رہا ہےکہ مکہ اور مدینہ اسلام کے پیدائشی شہر ہونے کے ناتے وہاں شعائر اسلام پر مسلمانوں کا عمل باقی اسلامی دنیا کے لیے مثالی ہی ہوگا۔ یہ عقیدہ تقریباً سارے مسلمان فرقوں کا مشترک ہے۔ جب میرے اس عزیز کا جواب آیا تو میں دنگ رہ گیا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ " یہاں کے گلی کوچوں اوربازاروں میں اسلام نظر آتا ہے۔ شیخوں کے گھروں میں ناپید ہے۔ اسلام پر عمل پاکستان میں ہے" مجھے یقین نہیں آیا تھا اگرچہ وہ بندہ قوم سادات کے ایک راسخ العقیدہ سنی مذہبی گھرانے کا تھا اور سعودیہ میں اس کا قیام چھ سات سالوں سے تھا۔2016 میں اللہ نے مجھے خود موقع عنایت کیا کہ بندہ ناچیز اس کے گھر کا تواف کرسکے۔ عمرہ کے لیے گیا اور کوئی ایک ہفتہ گزار آیا۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مسجد میں آزان ہوتے ہی بازاروں میں شٹر ڈاؤن ہوتا ہے۔ بتایا گیا کہ نماز کے وقت اگر کوئی دکان کھلی رہی تو وہ بندہ کوڑے کھائے گا بلکہ جیل بھی ہوگی۔ یہ بھی دیکھا کہ شاہراہوں کے ساتھ واقع ہر پٹرول پمپ کے ساتھ ایک مسجد قائم ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ ہر مسجد میں خواتین کے لیے باپردہ جائے نماز موجود ہے۔ یہ بھی دیکھا کہ خواتین گھروں سے باہر بہت کم نظر آتی ہیں اور مکمل پردے میں ہوتی ہیں۔ یہ سارا کچھ باہر کی دنیا کا نقشہ تھا جو ہم دیکھ پائے لیکن شیوخ کے گھروں کے اندر جھانکنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنے اس عزیز کی چالیس سال پرانی اطلاع کی تصدیق نہیں کر پایا۔غالباً 2017 میں ایک کتاب میرے ہاتھ لگی۔ کتاب کا نام "PRINCESS" اور لکھاری امریکن خاتون ، جین سیسوں تھی۔ یہ کتاب ایک سعودی شہزادی یعنی شاہ عبدالعزیز کی پوتی کی ایک طرح سے سوانح ہے جو اس کی زبانی اور اس کی دوست جین سیسون کے قلم سے لکھی گئی ہے البتہ کرداروں کی جانی اور سماجی حفاظت کے پیش نظر فرضی نام اپنائے گئے ہیں۔اس میں شہزادی جس نے پرنسس سلطانہ کے نام سے اپنی شناخت کرائی ہے شاہی خاندان کے محلوں کے اندر کی کہانیوں کی راوی ہے۔ بعد میں اسی مصنفہ کے قلم سے ‏Princess Sultana's daughters, ‏Desert Royal, ‏Princess Secrets to share, ‏Princess Sultana's Circles ‎جیسی کتابیں بھی پڑھنے کو ملیں البتہ شدید دکھ دیتی رہیں۔ کیونکہ کہانیاں بہت ہی دلخراش تھیں اور غیر انسانی کرداروں کےگرد گھومتی تھیں۔ ان کتابوں کے پڑھنے کے بعد سعودی عرب کے شاہی خاندان اور بااثر دولت مند شیخوں کی زندگی کا اصل نقشہ سامنے آیا۔ مجھے اپنے اس عزیز کی چالیس سال پرانی خبر کے تصدیق ہوگئی کہ واقع اسلام عرب کے گلی کوچوں اور بازاروں میں ہے گھروں کے اندر ندارد۔حال ہی میں شہزادی سلطانہ کی کہانیوں پر مبنی جین سیسون کی پانچویں کتاب ‏PRINCESS stepping out of the Shadows ‎ہاتھ لگی جس میں ایک ایسی کہانی لکھی گئی ہےجو ناقابل بیان ہے۔ اگرچہ ان جیسی شرمناک اور ننگ انسانیت کہانیوں کی ہمارے ملک میں بھی کمی نہیں ہے لیکن اسلام کے گھر میں ان کا وجود باعث دکھ ہے۔ ان کو بیان کرنا ضروری بھی ہے تاکہ عام مسلمان دھوکے میں نہ رہے کہ اسلام کا سچا نقشہ سعودیہ میں ہے تاہم اس سے مدافعتی لشکر کا حملہ ناقابل برداشت ہونے کا خطرہ ہے۔ اس لیے فی الحال اس کہانی کو پس پشت ڈالتے ہوئے دوسری کہانی کا مختصر تذکرہ مناسب ہے جو ان میں کسی کتاب میں مرقوم ہےڈاکٹر مینا، شہزادی سلطانہ کی گہری سہیلی ہے اور عرب شہری ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کی چوتھی بیٹی کے طور پر دنیا میں آئی تھی۔ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے باپ نے اسکی ماں کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا کیونکہ اس نے چوتھی دفعہ بھی بچی کو جنم دیا تھا۔ پھر اس شقی القلب آدمزاد نے اس نو مولد بچی کو اٹھائے ریگستان کی طرف چل پڑا تھا تاکہ اس معصوم کو زندہ زمین میں گھاڑ دے۔ اس نے بچی کو اٹھائے ہوئے اعلان کیا تھا کہ نو مولد بچی جو دفنانے کےبعدباویوں کو بھی ریگزار میں دفن کرےگا۔ جب وہ بچی کو لے کر گھرسےنکلا تو اس کے بڑے بھائی کو خبر ہوئی اور اس نے اس کا راستہ روک لیا اور بچی کو اس سے چھین کر اس کی ماں کے حوالے کیا۔ تائی نے معصوم بچیوں کی جانیں تو بچا لیں لیکن ظالم بھائی کو اپنی مظلوم بیوی کو طلاق دینے اور بچیوں کے ساتھ گھر سے نکالنے سے نہیں روک پایا۔ اس جابر انسان نے مطلقہ عورت کو بچیوں سمیت اس میکے پہنچا کر چھوڑ گیا اور پھر کبھی موڑ کرنہیں دیکھا۔ یہاں ماں باپ اس کو گھر میں داخل ہونے نہیں دیا اور دروازے پر کھڑی ماں اپنے ہی لخت جگر کو اس کے پیدائشی گھر میں پناہ لینے سے روک لیا۔ جائیں تو کہاں جائیں؟ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ اس عورت کی سب سے بڑی بچی اپنی نانی کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ جاتی ہے اور کسی طرح نیچے سے گھر میں گھسنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ کہانی نویس کہتی ہے کہ شاید اس بچی کو قدیم عربی ضرب المثل یاد ہو، " اونٹ کی ناک خیمے میں داخل ہو جائے تو سمجھ لو کہ اونٹ بھی خیمے میں داخل ہوگیا"۔ بچی نے جب اپنی نانی کی توجہ ہٹا دی تو اس کی ماں بھی دوسری بچیوں کے ساتھ گھر میں گھسنے میں کامیاب ہوگئی۔ ماں باپ ان کو پھر باہر نہ نکال پائے۔ کچھ عرصہ فاقہ کرنےکےبعد والدین کے دلوں میں اللہ نے رحم ڈالدیا اور ان کو روٹی بھی ملنے لگی۔ بچیوں کی ماں نےکہیں ملازمت ڈھونڈ لی اور اپنے بچوں کو پالنے لگی۔ آگے جاکر بوڑھے ماں باپ کا بھی سہارا بن گئی۔اس کی سب سے چھوٹی بچی بڑی ذہین نکلی۔ سکول میں اچھی پوزیشن لیتی گئی یہاں تک کہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کےلئے وظیفہ حاصل کرلیا۔ جس بچی کو اس کا شقی القلب باپ جس ریگستان زندہ دفن کرنے والا تھا اس نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرکے اسی ریگستان کے باسیوں کی خدمت کرنے لگی۔ اپنی زندگی کے تلخ تجربات کو یاد کرتے ہوئے ڈاکٹر مینا نے عرب کی مظلوم بچیوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ کے لیے رضاکارانہ کام کرنا شروع کیا۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ غربت زدہ اور مظلوم بچیوں کی تعلیم و تحفظ پر خرچ کرنے لگی۔ بچیوں کی تعلیم سے متعلق ایک کانفرنس کے دوران شہزادی سلطانہ کی اس سے ملاقات ہوگئی تاہم ڈاکٹر مینا شاہی خاندان والوں سے گریزاں رہی۔ لیکن شہزادی سلطانہ کو ان سے انس پیدا ہوگئی تھی۔ آہستہ آہستہ ان میں گہری دوستی ہوگئی کیونکہ دونوں کے خیالات اور ان کا میشن مشترک تھا۔ آج یہ دو عظیم خواتین سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لیے مالی اور اخلاقی مدد دینے میں ہراول دستے کا کردار بڑی راز داری کیساتھ ادا رہی ہیں۔ انہوں نے ہم خیال خواتین کا بڑا حلقہ پیدا کیا ہے اور پر امید ہیں کہ وہ دن جلد آئے گا کہ سعودی عرب اور دوسرے ممالک میں جہاں عورتیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، مرد کے ظالمانہ تسلط سے آزاد انسانی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گی۔